Al-Risala · April 2007 · page 19

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹

کے دو ہزار سالہ مجسموں کو محفوظ رکھنا اسلام میں بھی اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسرے ٹریڈیشن یا ڈسپلن میں مطلوب ہے یا ہو سکتا ہے۔

3- قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے یہاں ایک وراثتی تابوت (صندوق) موجود تھا جو نسل در نسل اُن کے یہاں ذریعۂ سکون کے طور پر محفوظ رہا۔ اس تابوت میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے تبرکات محفوظ کئے گئے تھے۔ گویا یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں کلچرل ہیریٹیج کہا جاتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وراثتی تابوت کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل تھی کہ ایک موقع پر اُس کو فرشتے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے گئے۔ (2:248)

میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہیریٹیج کو محفوظ کرنے کی یہ ایک براہِ راست مثال قرآن میں موجود ہے۔ اس سے کلچرل ہیریٹیج کی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ایسی چیز کو نسل در نسل محفوظ رکھنا شریعتِ الہی کے خلاف نہیں۔

4- قرآن میں مومن کی ایک صفت 'السائح' بتائی گئی ہے (9:112) یعنی سیاحت کرکے زمین کے مختلف مقامات پر جانا اور پچھلی قوموں کے چھوڑے ہوئے آثار و مساکن کو دیکھ کر اُن سے نصیحت لینا (28:58)- قرآن میں بتکرار یہ آیت آئی ہے: قل سیروا فی الأرض ثم انظروا کیف کان عاقبة المكذبين (6:11)

اس کے مطابق، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اُس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ اُن سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

5- کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی کلچر کو اپنا کلچر سمجھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہے تو یہ حق اس کو دیا جائے گا۔ یہ حق جس طرح سیکولرزم میں تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح وہ اسلام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page