Al-Risala · April 2007 · page 20

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں یروشلم (ایلیا) فتح ہوا تو خود عمر فاروق مدینہ سے سفر کر کے یروشلم گئے۔ اس وقت اسلامی خلافت اور مسیحی فرقہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ مسیحی چرچوں میں جو چیزیں ہیں وہ محفوظ رہیں گی۔ مثلاً مریم اور مسیح کے بت، وہ مقدس لکڑی جس پر مسیحی عقیدہ کے مطابق، حضرت مسیح کو سولی دی گئی، وغیرہ (تاریخ الطبری) اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہریٹیج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے۔ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔

خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اُس کو وہ محفوظ رکھے، خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر۔ کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے معاملے میں دخل دے۔ کلچر کے تحفظ کا معاملہ حکومتی مداخلت سے آزاد معاملہ ہے۔

6۔ اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی اہمیت کی چیزوں میں اسلام کا نارم (norm) بھی وہی ہوگا جو دوسری قوموں کا متفقہ نارم ہو۔ انٹرنیشنل نارم کے معاملے میں اسلام کا یہ اصول پیغمبر اسلام کے بعض واقعات سے مستنبط ہوتا ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اُس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک وفد رسول اللہ کے پاس مدینہ بھیجا اور یہ کہلوایا کہ آپ میری نبوت کو قبول کریں۔ پیغمبر اسلام نے اُن دو آدمیوں سے پوچھا کہ مسیلمہ کے معاملے میں تمھاری اپنی رائے کیا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہم بھی اُس کو اُس کے دعویٰ کے مطابق، نبی مانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ رواج نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں ضرور تم دونوں کو قتل کر دیتا (سیرت ابن ہشام)

پیغمبر اسلام کے اس ارشاد سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز انٹرنیشنل طور پر تسلیم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page