Al-Risala · April 2007 · page 21

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱

کر لی جائے تو اسلام میں بھی اُس کو تسلیم کیا جائے گا۔ اس اصول کی روشنی میں کلچرل ہہیریٹیج کو محفوظ کرنا اسلام میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ وہ دوسری قوموں کے نزدیک اہم ہے۔ جدید دنیا میں کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کو نہایت اہمیت کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں بھی بلا شبہہ ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس معاملے میں دوسروں سے الگ اسلام کا کوئی طریقہ نہیں۔

پیغمبر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کھجوروں کے باغ ہوا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ٹاؤن سے باہر ایک باغ کے پاس سے گزرے۔ یہاں کچھ لوگ کھجور کے درخت پر چڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ہینڈ پالی نیشن (hand-pollination) کا کام کر رہے تھے۔ آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اگلے سال کھجور کی فصل کم آئی۔ آپ نے سبب پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ آپ نے پالی نیشن (تأبير نخل) سے منع کر دیا تھا جب کہ اُسی سے کھجور میں اچھی فصل آتی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم جو کرتے تھے اُس کو کرو، کیوں کہ تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو (أَنْتُمْ أعلم بأمور دنیاکم)

پیغمبر کے اس قول سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے عقیدہ اور امور دنیا کا فرق۔ اسلام کے مطابق، زندگی کے وہ معاملات جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے امور دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو عقیدہ کے تابع نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ایسے موضوعات علمی ریسرچ کے تابع ہوں گے۔ ان میں وہی چیز درست قرار پائے گی جو علمی ریسرچ سے درست قرار پاتی ہو۔ اگری کلچر اور ہارٹی کلچر سے لے کر انجینئرنگ اور ہسٹری کے شعبے تک سب اس میں شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کے پرزرویشن کا معاملہ بھی انھیں چیزوں میں سے ہے جو علمی ریسرچ کے تابع ہیں، نہ کہ عقیدہ (faith) کے تابع۔

خلاصہ یہ کہ اصولی ہدایات اور عملی نظائر دونوں اعتبار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلچرل ہہیریٹیج یا ہسٹاریکل مانیومنٹ کے پرزرویشن کے معاملے میں اسلام کی رائے بھی وہی ہے جو دوسرے ٹریڈیشن یا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page