کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳
آغاز کلام
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ وہ اپنی اصل عربی زبان میں پوری طرح محفوظ ہے۔ ایسی ایک کتاب کا ترجمہ کبھی اصل کتاب کا بدل نہیں بن سکتا۔ ترجمۂ قرآن کا مقصد صرف تقریب فہم ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص عربی زبان نہ جانتا ہو، وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ قرآن، ایک غیر عربی داں کے لیے بھی ایک قابل فہم کتاب ہے۔ قرآن بظاہر عربی زبان میں ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کی زبان میں ہے، یعنی وہ زبان جس نے خدا نے تخلیق کے وقت سارے انسانوں سے براہ راست خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب ہر عورت اور مرد کے اندر غیر شعوری طور پر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے قرآن ہر انسان کے لیے ایک قابل فہم کتاب ہے، کسی کے لیے شعوری طور پر اور کسی کے لیے غیر شعوری طور پر۔
اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: بل ھو آیت بینت فی صدور الذین اوتو العلم (العنکبوت: 49) یعنی یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں اُن لوگوں کے سینوں میں جن کو علم ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس حقیقت ربانی کو شعور کی زبان میں بتا رہا ہے، وہ غیر شعوری زبان میں پہلے سے انسان کے اندر موجود ہے۔ قرآن کا پیغام انسان کے لیے کوئی اجنبی پیغام نہیں، وہ اُسی معرفت کا ایک لفظی اظہار ہے جس سے انسان فطرت کی سطح پر پہلے سے آشنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان بعد کے زمانے میں پیدا ہورہے ہیں، وہ سب ابتدائی طور پر تخلیق آدم کے وقت ہی پیدا کر دیے گئے تھے۔ اُس وقت خدا نے ان انسانی روحوں سے براہ راست خطاب کیا۔ اس معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولا د کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود اُن کے اوپر۔ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں‘‘۔ انھوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی‘‘۔ (الاعراف: 172)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues