کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴
خدا اور بندے کے درمیان ایک اور مکالمے کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے:
"ہم نے امانت (اختیاری عمل) کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اُس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈرگئے ، اور انسان نے اس کو اٹھالیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ (الاحزاب : 72)
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء تخلیق میں خدا نے تمام انسانوں کو براہِ راست طور پر خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں جو بات کہی گئی تھی ، وہ تمام انسانوں کے لاشعور میں محفوظ کر دی گئی۔ گویا کہ خدا کے جس کلام کو انسان، قرآن کی صورت میں پڑھ رہا ہے، اس سے پہلے براہِ راست خدائی خطاب کے تحت وہ اُس کو سُن چکا ہے اور سمجھ چکا ہے۔ قرآن، انسان کے لیے ایک معلوم بات کو جاننا ہے، نہ کہ کسی نامعلوم بات کو اچانک سُننا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن انسانی ذہن کی اُن فولڈنگ (unfolding) ہے۔
اس بات کو سامنے رکھا جائے تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن کا ترجمہ بھی ایک کافی ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس آدمی کی فطرت زندہ ہو، جس نے اپنے آپ کو بعد کی کنڈیشنگ سے بچایا ہو، وہ جب قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کے ذہن کے وہ خانے کھل جائیں گے جہاں خدا کا خطاب اوّل پہلے سے محفوظ ہے۔ عہدِ الست اگر خدا کا خطاب اوّل ہے تو قرآن خدا کا خطاب ثانی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر عربی زبان نہ جانتا ہو ، یا کم جانتا ہو اور وہ صرف ترجمہ قرآن پڑھنے کی پوزیشن میں ہو تو اُس کو فہم قرآن کے بارے میں مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن کا یہ تصور انسان موجودہ زمانے میں ایک سائنسی حقیقت بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جینیٹک کوڈ کی سائنس اور انتھراپالوجی کا مطالعہ، دونوں اس قرآنی نقطہ نظر کی کامل تائید کرتے ہیں۔
ہر کتاب کا ایک موضوع (subject) ہوتا ہے۔ قرآن کا موضوع یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے انسان کو آگاہ کیا جائے، یعنی انسان کو یہ بتایا جائے کہ خدا نے یہ دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues