Al-Risala · April 2007 · page 25

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

کس لیے بنائی ہے۔ انسان کو زمین پر بسانے کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کا سفرِ حیات موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ قرآن اس پورے سفرِ حیات کے لیے ایک رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کرنا، یہی قرآن کا مقصد ہے اور یہی قرآن کا موضوعِ کلام۔

خدا نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کے عرصہ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا بہت تھوڑا حصہ قبل از موت دور میں رکھا اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت دور میں رکھ دیا۔ موت سے پہلے کا جو دور ہے، وہ ٹیسٹ کا دور ہے اور موت کے کا جو دور ہے، وہ ٹیسٹ کے مطابق، اچھا یا بُرا انجام پانے کا دور۔ قرآن، زندگی کی اسی حقیقت کے لیے ایک تعارفی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

انسان کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker) ہے۔ ہر انسان کے دماغ میں یہ سوال چھپا ہوا ہے کہ میں کون ہوں، میرا مقصدِ حیات کیا ہے، زندگی کی حقیقت کیا ہے اور موت کی حقیقت کیا، اس دنیا میں آدمی کی کامیابی اور ناکامی کا راز کیا ہے، وغیرہ۔ قرآن کے مطابق، اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور بعد کی دنیا امتحان کا انجام پانے کی جگہ۔ قبل از موت دورِ حیات میں انسان کو جو کچھ ملا ہے، وہ سب امتحان کا پرچہ ہے۔ بعد از موت دورِ حیات میں انسان کو وہ چیز ملے گی جس کا استحقاق اس نے موجودہ دنیا میں پیدا کیا تھا۔ اس دنیا میں آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنے زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

ایک عام آدمی جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن بظاہر متفرق بیانات (fragmentary statements) کا مجموعہ ہے۔ یہ احساس بظاہر خلافِ واقعہ نہیں۔ مگر قرآن کا یہ انداز کسی کمی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ عین منصوبہ قرآن کے مطابق ہے۔ قرآن موجودہ حالت میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page