کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
جیسا ہے، ویسا ہی اُس کو ہونا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی تنبیہ کی ایک کتاب ہے۔ وہ اَسباب اور نصیحت کا ایک مجموعہ ہے۔ قرآن، عام طرزِ تصنیف کے مطابق تیار نہیں ہوا۔ زیادہ صحیح طور پر قرآن ایک بُلک آف وزڈم ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ قرآن کو پڑھنے والا اگر قرآن کا صرف ایک صفحہ پڑھے، یا اُس کا صرف ایک جملہ سُنے تب بھی اُس کو اُس میں ایک میسیج مل جائے۔
قرآن ایک اعتبار سے مُنعم کی طرف سے انعام کی یاددہانی ہے۔ خدا نے انسان کو استثنائی اور اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اُس کو زمین جیسے سیارے پر بسایا، جہاں انسان کے لیے ہر قسم کا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ قرآن کا مقصود یہ ہے کہ انسان، فطرت کے ان انعامات سے استفادہ کرتے ہوئے مُنعم کو یاد رکھے۔ وہ انعامات کے خالق کو اکنا لِج کرے۔ انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو اکنا لِج کرنا اور اُس کے تقاضے پورے کرنا، یہی ابدی جنت کا سرٹیفکٹ ہے۔ اور انعامات کو استعمال کرتے ہوئے مُنعم کو فراموش کر دینا، آدمی کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ قرآن دراصل اِسی سب سے بڑی حقیقت کی یاددہانی ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کو پانے کے لیے صحبت ضروری ہے۔ ان کے نزدیک کسی صاحب کمال کی صحبت سے پر اسرار طور پر قرآن کے معانی آدمی کے اوپر کھل جاتے ہیں۔ یہ قرآن اور انسان دونوں کی تصغیر ہے۔ قرآن، انسان کی عقل کو خطاب کرتا ہے۔ اور عقل انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ عقل کی سطح پر قرآن کو پانا ہی قرآن کو پانا ہے۔ جو لوگ عقل سے کم تر کسی سطح پر قرآن کو پائیں، انھوں نے قرآن کو پایا ہی نہیں۔ عقل کی سطح پر پانے والے کے لیے قرآن اٗس کی فکری دریافت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ قرآن کو عقل کی سطح پر نہ پائیں، وہ اُس کو صرف قومی روایت کے طور پر پائیں گے۔ اور قومی روایت کے طور پر پانا، قرآن کو صرف کم تر سطح پر پانے کے ہم معنی ہے۔ قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ صرف اصولی اور بنیادی باتوں کو بیان کرتا ہے۔ وہ ان باتوں کو مؤ کد (emphasize) کرنے کے لیے اُنھیں بتکرار بیان کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جُزئی
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues