Al-Risala · April 2007 · page 27

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷

باتیں یا ظاہری فارم سے متعلق باتیں قرآن میں اتنی کم ہیں گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔ اس سے قرآن کی اسکیم کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کے نزدیک فارم کی اہمیت تمام تر سیکنڈری ہے۔ قرآن کے نزدیک ساری اہمیت اُن چیزوں کی ہے جن کو خدائی دین میں اصولی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ کوئی بھی شخص جو قرآن کو پڑھے، وہ اس کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی شخصیت کی تعمیر میں ساری اہمیت داخلی اسپرٹ کی ہے۔ داخلی اسپرٹ اگر پیدا ہو جائے تو فارم اپنے آپ پیدا ہو جائے گا۔ ظاہری فارم کبھی بھی داخلی اسپرٹ کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ البتہ داخلی اسپرٹ اگر بھر پور طور پر پیدا ہو جائے تو ظاہری فارم لازماً پیدا ہو کر رہتا ہے۔ اس لیے قرآن کی ساری کوشش یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی انقلاب لایا جائے۔ ذہنی انقلاب کے لیے قرآن میں معرفت، یا عرفان حق (المائدہ : 83) کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کا سارا زور اس پر ہے کہ آدمی معرفت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ ایمان باللہ وہی ہے جو معرفت کی سطح پر کسی آدمی کو حاصل ہو۔ معرفت نہیں تو ایمان بھی نہیں۔

آپ قرآن کو پڑھیں تو آپ اُس میں بار بار اس قسم کے بیانات پائیں گے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا کلام (Word of God) ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن جب اس کو تقابلی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ مقدس کتابیں ہیں۔ لیکن قرآن کے سوا کسی بھی مقدس مذہبی کتاب میں آپ کو یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس قسم کا بیان استثنائی طور پر صرف قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں اس قسم کا بیان ہونا، اُس کے قاری کو ایک نقطۂ آغاز دیتا ہے۔ وہ اس کا مطالعہ ایک استثنائی کتاب کے طور پر کرتا ہے، نہ کہ عام انسانی کتاب کے طور پر۔

اسی طرح قرآن میں بار بار اس طرح کا خطاب ملتا ہے— اے انسان، یہ تیرا رب ہے جو تجھ سے خطاب کر رہا ہے۔ تو اس خطاب کو سُن اور اس کا اتباع کرنا۔ یہ اندازِ خطاب بھی انتہائی استثنائی ہے۔ کسی بھی دوسری کتاب میں اس قسم کا براہِ راست خدائی خطاب موجود نہیں۔ یہ طرزِ خطاب انسان کو

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page