کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸
غیر معمولی طور پر متاثر کرتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا خدا براہ راست طور پر مجھ کو خطاب کر رہا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لے۔ وہ اُس کے ساتھ عام انسانی کتاب جیسا معاملہ نہ کرے۔
قرآن کا اسلوب بیان بھی ایک منفرد اسلوب بیان ہے۔ عام انسانی کتابوں کا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں چیزیں تصنیفی ترتیب کے ساتھ درج ہوتی ہیں۔ اُس میں اے سے زیڈ تک سلسلہ وار ترتیب کی صورت میں چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں اس قسم کا اسلوب موجود نہیں۔ عام انسان کو بظاہر قرآن ایک غیر مرتب کلام معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ ایک انتہائی مربوط اور مرتب کلام نظر آئے گا۔
قرآن کے اسلوبِ کلام کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اُس کا اسلوب ایک شاہانہ اسلوب ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کا مصنف ایک ایسے برتر مقام پر ہے جہاں سے وہ ساری انسانیت کو دیکھ رہا ہے۔ ساری انسانیت اُس کا کنسَرن ہے۔ وہ اپنے مقامِ عظمت سے پوری انسانیت کو خطاب کر رہا ہے۔ البتہ اِس خطاب کے دوران اُس کا رخ کبھی ایک گروہ کی طرف مُڑ جاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کی طرف۔
قرآن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اُس کا قاری کسی بھی لمحہ اُس کے مصنف سے کنسَلٹ کر سکتا ہے۔ قرآن کا مصنف خدا ہے۔ وہ ایک زندہ خدا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ براہِ راست طور پر ہر انسان کی بات کو سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے۔ اِس لیے قرآن کے قاری کے لیے ہر لمحہ یہ ممکن ہے کہ وہ خدا سے ربط قائم کر سکے۔ وہ خدا سے پوچھے اور خدا سے اپنے سوال کا جواب پالے۔ جو لوگ صرف میڈیا کے ذریعے قرآن کو جانتے ہیں، وہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ قرآن جہاد کی کتاب ہے، اور جہاد ان کے نزدیک نام ہے تشدد کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کرنا۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے۔ جو آدمی بھی قرآن کو براہِ راست پڑھے، اُس کو یہ سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی کہ قرآن کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن مکمل طور پر کتاب امن ہے، نہ کہ کتاب تشدد۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues