کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹
یہ صحیح ہے کہ قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو جہاد کہا جاتا۔ لیکن جہاد پر امن کوشش کا نام ہے، نہ کہ کسی قسم کے متشددانہ عمل کا۔ قرآن کا تصور جہاد قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: وجاهدهم به جہاداً كبيراً۔ یعنی قرآن کے ذریعے اُن کے ساتھ جہاد کرو، بڑا جہاد:
Do great Jihad with the help of the Quran. (25:52)
قرآن کی اس آیت میں قرآن کے ذریعے جہاد کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کوئی ہتھیار نہیں، قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ قرآن، خدائی آئیڈیالوجی کا تعارف ہے۔ اس سے قرآن کا تصور جہاد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق، جہاد دراصل پُر امن نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) کا نام ہے۔ اس نظریاتی جدوجہد کا نشانہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اُتر جائے: وقل لهم فی أنفسهم قولا بلیغاً And speak to them a word to reach their very soul. (4:63)
اس آیت کے مطابق، قرآن کا مطلوب قول وہ ہے جو قول بلیغ ہو، یعنی ایسا کلام جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ جو لوگوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کو قرآن کی صداقت پر یقین پیدا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کے اندر فکری انقلاب برپا ہو جائے۔ یہ قرآن کا مشن ہے۔ اور اس قسم کا مشن صرف دلائل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ تشدد یا کسی بھی مسلح کارروائی کے ذریعے اس نشانے کو پانا ممکن نہیں۔
یہ صحیح ہے کہ قرآن میں کچھ ایسی آیتیں ہیں جو قتال (war) کی اجازت دیتی ہیں۔ لیکن یہ آیتیں صرف جنگی حالات کے لیے ہیں۔ وہ صرف حملے کے وقت دفاع کے معنی میں ہیں۔ دفاع کے سوا کوئی جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ یہ دفاع بھی صرف ایک قائم شدہ ریاست (established state) کر سکتی ہے۔ اسٹیٹ کے سوا کسی بھی فرد، یا تنظیم کو جہاد چھیڑنے کی اجازت نہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن کوئی قانونی کتاب نہیں ہے، قرآن ایک
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues