Al-Risala · April 2007 · page 30

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰

دعوتی کتاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا اسلوب کلام قانونی نہیں ہے، بلکہ دعوتی ہے۔ قانون کی زبان تعینات کی زبان ہوتی ہے۔ قانونی تحریر میں چیزیں لفظی طور پر مطلوب ہوتی ہیں۔ جب کہ دعوتی تحریر کا معاملہ ایسا نہیں۔ دعوتی تحریر میں اس کے معانی پر زور ہوتا ہے۔ دعوتی کتاب میں الفاظ کی حیثیت صرف ذریعے کی ہو جاتی ہے۔ جب کہ قانونی کتاب میں الفاظ خود مقصود بالذات بن جاتے ہیں۔

اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ دعوتی تحریر میں تاکید کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شدت کے اسلوب کو اختیار کیا جاتا ہے۔ دعوتی تحریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو بظاہر نہایت سخت معلوم ہوتے ہیں، مگر دعوتی کلام میں یہ سختی بر بناہ حکمت ہوتی ہے۔ ایسے کسی کلام میں شدت کو دیکھ کر اُس کو قانونی شدت کے معنی میں لینا، سرتا سر نادانی کی بات ہوگی۔ اِس حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ دعوتی کلام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس میں ایک ایسی بات کہی جاتی ہے جو قانونی اسلوب کے اعتبار سے نہایت سخت معلوم ہوتی ہے، لیکن دعوتی اسلوب کے اعتبار سے وہ صرف جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہے، وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کی فطرت کو جگایا جائے۔ اس کے اندر چھپے ہوئے احساسات کو متحرک کیا جائے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

1- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدر (2 ہجری) کی لڑائی پیش آئی۔ یہ لڑائی آپ نے دفاع کے طور پر کی تھی۔ اس لڑائی میں آپ کو جیت ہوئی۔ جنگ کے بعد آپ نے مخالفین کے ستر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد یہ لوگ اسیران جنگ کی حیثیت سے مدینہ لائے گئے۔ اس واقعے پر قرآن میں یہ آیت اتری: ما كان لنبيّ أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض (الانفال: 67) یعنی کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ اُس کے پاس قیدی ہوں، جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خون ریزی نہ کرلے۔

اس آیت کے الفاظ کو اگر قانونی مفہوم میں لیا جائے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسیران جنگ کو لازماً قتل کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ اسیران جنگ بوقت نزول آیت پوری طرح رسول اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page