Al-Risala · April 2007 · page 31

کلچرل ہیریٹج کا پر یزرویشن

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱

صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ اختیار میں تھے۔ ایسی حالت میں اگر یہ آیت قانون کی زبان میں ہوتی تو اُس میں اِس قسم کے الفاظ ہونے چاہیے تھے کہ۔ جن ستر آدمیوں کو تم میدانِ جنگ سے گرفتار کر کے مدینہ لائے ہو، وہ سب کے سب اپنے جرم کی بنا پر گردن زدنی ہیں۔ اس لیے فوراً انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کر دو۔ مگر نہ قرآن میں ایسی آیت اتری اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو قانونی آیت سمجھ کر اُس کی لفظی تعمیل کی۔

اس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اپنے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے مطلوب نہ تھی، بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطلوب تھی، یہ شدتِ کلام کا معاملہ تھا جو اس لیے تھا کہ اسیرانِ جنگ کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ ابھرے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات تھی، وہ کوئی قانونی حکم نہ تھا بلکہ وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) تھی۔ اس آیت کا مطلب مجرمین کی اصلاح تھا، نہ کہ مجرمین کا قتل۔ چناں چہ ان قیدیوں میں سے بیش تر لوگ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے۔ مثال کے طور پر سہیل بن عمرو، وغیرہ۔ 2- اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يأيها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم (التوبہ: 73) یعنی اے نبی، منکروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ منکروں اور منافقوں سے جنگ کرے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر نے کبھی بھی وہاں کے منکروں اور منافقوں سے مسلح اقدام کر کے جنگ نہیں کیا۔ پیغمبرِ اسلام جب بھی کسی جنگ میں شامل ہوئے تو وہ صرف دفاع کے طور پر، نہ کہ اپنی طرف سے حملے کے طور پر۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس آیت میں جہاد اور غلظہ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ صرف ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) کے طور پر ہیں، نہ کہ کسی قانونی حکم کے طور پر۔ اگر وہ کوئی قانونی حکم ہوتا تو پیغمبر اسلام ضرور اُس پر عمل کرتے ہوئے اُن کے خلاف مسلح جنگی اقدام کرتے۔

3- قرآن میں ہجرت کے وقت سورہ الکافرون اتری۔ اُس میں اہل مکہ کو ’’اے منکرو‘‘ کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page