Ignore the problems, avail the opportunities.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹
مصلحین نے نظام کو توڑنے سے اپنے عمل کا آغاز کیا جو قانونِ الہیٰ کے خلاف ہونے کی بنا پر اصلاح کے نام پر فساد کا باعث بن گیا۔ یہی وہ ذہن ہے جس کی ترجمانی اقبال نے اپنے اس شعر میں کی ہے: گفتند جهان ما آيا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برہم زن 2۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی 13 سال تک مکہ میں رہے۔ اس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے رسول اور اصحابِ رسول کے خلاف طرح طرح کے مسائل پیدا کردئے۔ مثلاً مکہ میں آزادانہ طور پر عبادت کرنا سخت مشکل ہوگیا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: ان مع العسر يسرا (الانشراح: 4) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
تقابل کے اصول پر غور کیجئے تو یہاں دوسرا حکم یہ نازل ہو سکتا تھا کہ مشکلات کی چٹان کو توڑوتا کہ تمھارے لیے اسلام پر عمل کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس تقابلی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانا اسلام کا طریقہ نہیں، بلکہ مشکلات سے اعراض کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے لیے عمل کے مواقع تلاش کرنا، یہ اسلام کا طریقہ ہے۔ ایک جملہ میں، قرآن کا فارمولا یہ ہے___ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problems, avail the opportunities.
اس اسلامی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے مصلحین نے مسائل کو دیکھتے ہی مسائل کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا کیوں کہ خود ساختہ سوچ کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ پہلے مسائل سے لڑ کر مسائل کا خاتمہ کرو، اس کے بعد ہی ہمارے لیے کام کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ ذہن ہے جو عرب دنیا کے رہنماؤں کے یہاں اس نعرہ کی شکل میں جاری ہوا: الجهاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے) حالانکہ اگر وہ قرآنی حکمت کو سمجھتے تو ان کا قول برعکس طور پر یہ ہوتا: الدعوة هى الحل الوحيد (دعوت ہی واحد حل ہے)۔
3۔ مکہ کے 13 سالہ دور میں اگرچہ سو سے زیادہ آدمی اسلام میں داخل ہو گئے تھے، مگر مشرکین کے غلبہ کی بنیاد پر وہاں رسول اور اصحابِ رسول کے لیے حالات دن بدن سخت ہوتے چلے گئے۔ یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues