Al-Risala · April 2007 · page 40

Ignore the problems, avail the opportunities.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

تک کہ تیرھویں سال ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ کو چھوڑ کر مدنیہ چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رات کے وقت مکہ کو چھوڑا تو صورت حال یہ تھی کہ وہاں کے مشرکین تلوار سے مسلح ہو کر آپ کے مکان کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہ گویا ان کی طرف سے ایک قسم کی دعوتِ قتال تھی۔ مگر آپ مقابلہ سے اعراض کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ رات کے وقت مکہ سے نکلے اور 400 میل کا سفر طے کرکے مدینہ آگئے۔

ہجرت کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ جیسا کہ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: أُمِرتُ بقريةٍ تأكل القُرَى يقولون يثرب و هي المدينة۔ ہجرت کا یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اتنا اہم تھا کہ اس سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز کیا گیا۔

مگر تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو یہاں ایک اور صورت ممکن تھی۔ وہ یہ کہ ہجرت، بالفاظ دیگر مقابلہ کے مقام سے ہٹ جانا، کے بجائے محاصرہ کیے ہوئے مشرکین سے جنگ کی جائے خواہ اس کا نتیجہ جس شکل میں بھی برآمد ہو۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کے اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں یہی دوسرا طریقہ زیادہ معیاری تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی یہی عام سوچ رہی ہے۔ اس ذہن کی ترجمانی سلطان ٹیپو (وفات : 1799) نے میں ان الفاظ میں کی تھی۔ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو لڑائیاں پیش آئیں، ان میں سے ایک وہ ہے جسے کو غزوۂ احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کے ستر افراد مارے گئے۔ یہ مشرکین کی طرف سے بلاشبہ ایک ظالمانہ واقعہ تھا۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ آیا تو مشرکین کو الزام دینے کے بجائے خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی۔ قرآن میں یہ آیت اتری: حتی اذا فشلتُم وتنازعتم في الامر (آل عمران: 152) یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے کے بارے میں تمھارے اندر نزاع پیدا ہوگئی۔

تقابلی اعتبار سے دیکھیے تو اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حملہ آور مشرکین کے خلاف

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page