Al-Risala · April 2007 · page 41

كيف القرار وقد نكس أعلمنا بطرابلس

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱

غصے کا اظہار کیا جاتا ، جیسا کہ اس طرح کے معاملات میں مسلم رہنماؤں کا عام طریقہ ہے۔ وہ ایسے مواقع پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور احتجاج کی زبان میں کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب اٹلی کی فوجیں لیبیا میں داخل ہوگئیں تو ایک مشہور عالم نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

كيف القرار وقد نكس أعلمنا بطرابلس

5۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد بھی مشرکین نے اپنی مخالفانہ کارروائیوں کو ختم نہیں کیا۔ اب انھوں نے یکطرفہ جارحیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ مگر جنگوں کے ذریعے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ اب اللہ تعالیٰ نے الصلح خير (النساء: 128) کے اصول کے مطابق، ایک ایسی تدبیر کا حکم دیا جس کے نتیجہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان امن کا معاہدہ طے پا گیا جو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ کی تفصیلات حدیث میں اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتہ کی گفت و شنید جاری رہی۔ مگر مشرک سردار اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی شرطوں کو یکطرفہ طور پر منظور کرتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور مدینہ واپس آگئے ۔

اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: انا فتحنا لك فتحا مبينا (الفتح: 1) یعنی ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔

اب اس معاملے کو تقابلی اصول پر دیکھیے ۔ حدیبیہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ صلح صلح نامہ کی ظاہری دفعات کے مطابق ، بظاہر مشرکین کی جیت کے ہم معنی تھی ۔ ایسی حالت میں دوسری بات جو کہی جاسکتی تھی وہ یہ تھی کہ تم لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پر جو صلح کی ہے ، وہ تو تمھارے لیے شکستِ مبین کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس کے بجائے قرآن میں اس صلح کو فتح مبین کا نام دیا گیا ، جیسا کہ حقیقت بعد کو پیش آیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page