کتاب ، تراز واور لوہا
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳
کتاب ، تراز واور لوہا
قرآن کی سورہ نمبر 57 میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل کی، تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں۔ اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے بن دیکھے۔ بے شک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔ ‘‘ (الحديد: 25)
قرآن کی اس آیت میں بنیادی طور پر تین چیزوں کے اتارنے کا ذکر ہے— نزول کتاب، نزول میزان، اور نزول حدید۔ نزول کتاب سے مراد رسولوں کے ذریعے خدائی کلام کو اتارنا ہے۔ نزول میزان اور نزول حدید میں نزول سے مراد پیدا کرنا ہے، جیسا کہ سورہ الزمر میں فرمایا: وأنزل لكم من الأنعام ثمانية أزوج (6)۔ اس دوسری آیت میں نزولِ انعام سے مراد تخلیق انعام ہے، یعنی مویشیوں کو پیدا کرنا۔ اسی طرح سورہ الحدید میں بھی نزول میزان اور نزول حدید سے مراد تراز واور لوہے کو پیدا کرنا ہے۔
خدا نے ہر زمانے میں پیغمبروں کے ذریعے اپنا کلام انسانوں کے پاس بھیجا۔ اب خدا کی آخری کتاب قرآن ہے جو کامل طور پر محفوظ کتاب ہونے کی بنا پر خدائی ہدایت کو معلوم کرنے کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کر کے اپنے بارے میں خدا کی ہدایت کو معلوم کرے اور اس پر عمل پیرا ہو جائے۔
اس نظری ہدایت کے بعد خدا نے دو اور چیز پیدا کی وہ تراز واور لوہا ہے۔ یہ دونوں چیزیں گویا دو مطلوب ربانی کردار کے لیے مادی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ترازواس بات کا ماڈل ہے کہ اخلاق اور معاملات میں آدمی اسی طرح منصفانہ برتاؤ کا طریقہ اختیار کرے جس طرح ایک ترازو برابری کی تول تولتا ہے اور نہایت منصفانہ طور پر حقوق کا تعین کر دیتا ہے۔ ایسا ہی منصفانہ طریقہ انسان
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues