Al-Risala · April 2007 · page 44

Mohammad Hassan Nadwi

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔

یہی معاملہ لوہے کا ہے۔ انسان سے جو قربانی کردار مطلوب ہے، لوہا اس کا ایک مادی ماڈل ہے۔ لوہے میں بیک وقت دو اعلیٰ صفت پائی جاتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ قابلِ اعتماد حد تک مضبوط ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے زندگی کے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خدا کی کتاب سے ہدایت معلوم کرے اور اجتماعی زندگی میں لوہے کی طرح مضبوط کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ دوسروں کو اُس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے۔

اس آیت میں لوہے کی دو صفت بتائی گئی ہے۔ مضبوطی اور نفع بخشی۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں، بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوطی ہی کا ایک پہلو نفع بخشی ہے۔ کوئی چیز مضبوط ہو، اُسی وقت وہ نفع بخش بن سکتی ہے۔ مضبوطی نہیں تو نفع بخشی بھی نہیں۔

آیت کا آخری حصہ بتاتا ہے کہ یہ سارا معاملہ حالتِ غیب میں پیش آتا ہے۔ کیوں کہ انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ آزمائش کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے درست رویہ اختیار کرنا۔ یہ بات حالتِ غیب ہی میں ہوسکتی ہے۔ اگر خدا اور اس کی طاقت آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو جائے تو وہ حالت ہی ختم ہو جائے گی جس میں کسی کا امتحان لیا جائے اور اس کے بارے میں آخرت کے انجام کا فیصلہ کیا جائے۔

لکھنؤ میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:

Mohammad Hassan Nadwi

Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, Sattya Market, Sector: 17, Lucknow. (U.P.) 226 016 Mobile: 0930356090, Email: mhcps@yahoo.com

‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues

Printed page