غير حقیقی ذہن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵
غير حقیقی ذہن
ایک سفید فام امریکی نومسلم ہیں اُن کا قدیم نام اسٹیو اسکلر (Steev Sklar) تھا۔ انھوں نے اپنا اسلامی نام محمد مصطفیٰ رکھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد دس سال سے زیادہ مدت مسلم ملکوں میں گزاری۔ انھوں نے عربی زبان اتنی سیکھ لی ہے کہ اب وہ بے تکلف عربی بولتے ہیں۔ دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس وہی ہے جس کو انگریزی میں پیرانوئیا (paranoia) کہا جاتا ہے، یعنی اپنی بڑائی کا وہم۔
محمد مصطفیٰ صاحب کئی بار دہلی آئے اور ہر بار مجھ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہ جب بھی میرے پاس آتے، وہ روزے سے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنہا آپ کو چھوڑ کر موجودہ زمانے کا ہر مسلمان میرے نزدیک ایک پیرانوئک کردار (paranoic character) بن گیا ہے۔
پیرانوئیا کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو ایک فارسی مقولے میں ’پدرم سلطان بود‘ کہا گیا ہے۔ میں اپنے تجربہ اور مطالعہ کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں جو نفسیات پیدا ہوئی، وہ عین اسی کے مطابق تھی۔ مسلمانوں میں جب بادشاہت تھی تو اگرچہ بادشاہ صرف ایک ہوتا تھا مگر سارے مسلمان ’مسلمان پدرم سلطان است‘ کی نفسیات میں جیتے تھے۔ اور اب جب کہ قدیم طرز کی بادشاہت ختم ہو گئی تو اب سارے مسلمان ’مسلمان پدرم سلطان بود‘ کی نفسیات میں جیتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت پچھلے تقریباً ہزار سال سے اسی قسم کی نفسیات میں جی رہی ہے۔ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں غلط طور پر شاہانہ عظمت، ترقی اور تنزلی کا معیار بن گئی۔ اگر انھیں دنیا میں شاہانہ حیثیت حاصل ہو تو وہ اپنے آپ کو عظمت کے پہاڑ پر کھڑا ہوا محسوس کریں گے ۔ اور اگر شاہانہ حیثیت ختم ہو جائے تو اُن کا وہی حال ہوگا جس کو اقبال نے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues