غير حقیقی ذہن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۷، صفحہ ۴۶
اپنے ایک مصرعہ میں اس طرح بیان کیا ہے:
ثریا سے زمیں پر آستاں نے ہم کو دے مارا!
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا ہونا یا نہ ہونا دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ یہ مومن کا کمال ہے کہ وہ ہر حال میں ففروا إلى اللہ (الذاریات : 50) کا مصداق بنا ہوا ہو۔ وہ ہر حال میں اللہ کی طرف بھاگے۔ دنیا میں پانا اس کو آخرت کی محرومی کی یاد دلائے اور دنیا کی محرومی اُس کے لیے تعلق باللہ میں اضافہ کا سبب بن جائے۔ اُس کو غلبہ حاصل ہو تو وہ آخرت کی باز پرس کے احساس سے کانپ اُٹھے۔ وہ مغلوب ہو جائے تو اُس کا عجز اُس کو اللہ کی قدرت کی یاد دلائے۔ اُس کو دنیا کی نعمتیں ملیں تو وہ سہم اُٹھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں اُس سے یہ کہہ دیا جائے کہ ـــــ أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا (الاحقاف : 20) اور اگر دنیا کی نعمتوں میں اس کو حصہ نہ ملے تو وہ کہہ اُٹھے کہ خدایا، اگر تو مجھے آخرت کی نعمتوں سے محروم نہ کرے تو دنیا کی نعمتوں سے محرومی کی مجھے پروا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی پوری زندگی ایک مسلسل امتحان ہے۔ یہاں صاحب اقتدار ہونا بھی امتحان ہے اور بے اقتدار ہونا بھی امتحان۔ یہاں ملنا بھی امتحان ہے اور چھن جانا بھی امتحان۔ یہاں با عظمت ہونا بھی امتحان ہے اور بے عظمت ہونا بھی امتحان۔ اصل قابلِ لحاظ چیز یہ ہے کہ آدمی کو جس آزمائش میں بھی ڈالا جائے اُس میں وہ پورا اُترے۔
سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پتہ درج ذیل ہے:
Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chowk, Saharanpur-247001, U.P. Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of April 2007 All issues