روحانی شخصیت کی تعمیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۴
یہ اصحابِ رسول کس طرح اصحابِ رسول بنے۔ اس پر اس کا نقطۂ آغاز یہ تھا کہ انھوں نے نظریاتی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کیا جس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ ایمان کے بعد انھوں نے اپنی عملی زندگی میں اُس نقشے کو اختیار کر لیا جس کی تعلیم انھیں خدا کے رسول کے ذریعے ملی تھی۔ ایسا کر کے وہ گویا اصحابِ رسول کے گروہ میں شامل ہو گئے۔
لیکن اعلیٰ اسپرچول شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف اتنا کافی نہیں۔ اعلیٰ اسپرچول شخصیت کی تعمیر اُس عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو قرآن میں توسّم (الحجر : 75) کہا گیا ہے، یعنی مادیّ حقیقتوں سے ربانی خوراک حاصل کرنا، روز مرّہ کے مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کرنا: Spirituality is the ability to convert daily events into spiritual experiences. جن معاصر اہلِ ایمان کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی، وہ تاریخ کی اعلیٰ ترین اسپرچول شخصیتیں تھیں۔ یہ شخصیتیں کسی پُر اسرار نسبت کے ذریعے نہیں بنیں ۔ وہ معلوم فطری قانون کے ذریعے بنیں ۔ وہ فطری قانون خاص طور پر یہ تھا کہ پیغمبر نے ایک اسپرچول جائنٹ کی حیثیت سے تزکیہ کے عمل میں اُن کی مسلسل رہنمائی کی۔ یہ رہنمائی خاص طور پر توسّم کے ذریعے ہوئی ۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ روز مرّہ کے واقعات اور مشاہدات میں ایسے پہلوؤں کی نشان دہی فرماتے تھے کہ یہ واقعات اور مشاہدات اہلِ ایمان کے لیے روحانی خوراک بن جائیں۔ خدا پر زندہ عقیدے کے بعد یہی توسّم اصحابِ رسول کی روحانی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
قرآن میں اِس عمل کو ذِکر کثیر (الاحزاب : 41) کہا گیا ہے۔ ذکر کثیر کا لفظی مفہوم ہے— اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصحابِ رسول ہر وقت اللہ، اللہ، اللہ، کہتے رہتے تھے۔ اس قسم کا مفہوم بلاشبہہ ذکرِ کثیر کی تصغیر ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ روز مرہ کے واقعات اور مشاہدات پر غور کر کے اُن کو روحانی تجربے میں کنورٹ کرنا۔ یہ کنورژن مومن کا رزق ہے۔ اور اس رزق کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: و رزق ربّک خیر و أبقیٰ (طٰہ: 131)