Al-Risala · May 2007 · page 5

روحانی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۵

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاصر اہل ایمان کی روحانی تربیت کے لیے آپ کا طریقہ کیا تھا۔ وہ طریقہ توسم پر مبنی ہوتا تھا، یعنی آس پاس کے واقعات اور مشاہدات کو تربیتی غذا میں کنورٹ کرنا۔ اور اس طرح لوگوں کو اس قابل بنانا کہ وہ توسم کے ذریعے اپنی مسلسل روحانی تربیت کرتے رہیں۔ اس تربیتی اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: فإذا قضیت الصلوة فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل الله واذكروا الله كثيراً لعلكم تفلحون (الجمعه: 10) یعنی اور جب نماز ختم ہو جائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا رزق تلاش کرو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین میں پھیل کر ہر جگہ خفی یا جلی انداز میں اللہ، اللہ کرتے رہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں پھیل جاؤ اور اس طرح غور وفکر کے ساتھ رہو کہ فطرت کے مشاہدات اور زندگی کے واقعات تمھارے لیے ربانی تجربہ یا قرآنی الفاظ میں رزق رب بنتے رہیں ؀ احادیث کا بیش تر ذخیرہ گویا اسی قسم کے توسم کی مثال ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اسپرچول تربیت کے لیے ایک اسپرچول جائنٹ کی صحبت ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کو یہ صحبت تو فطری طور پر مل گئی تھی۔ اب بعد کے لوگوں کے لیے اس تربیتی کورس کے حصول کا ذریعہ کیا ہوگا۔ یہ بلاشبہ ایک اہم سوال ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا یکساں طور پر سارے انسانوں کا رب ہے۔ وہ ایک زمانے کے انسان اور دوسرے زمانے کے انسان کے درمیان یہ فرق نہیں کر سکتا کہ وہ ایک زمانے کے لوگوں کو اعلیٰ روحانی تربیت کے مواقع دے، لیکن دوسرے زمانے کے لوگوں کو اس سے محروم کر دے۔

بلکہ اس کے برعکس، حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے خدا ایسے اسباب پیدا کرے گا کہ اگر وہ چاہیں تو اس معاملے میں اور بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ بات اُس حدیث سے ثابت ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: عباد ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم النبيون والشهداء لمقعدهم وقربهم من الله يوم القيامة (مسند احمد، جلد 5،

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page