Al-Risala · May 2007 · page 6

روحانی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۶

شہید ہیں، اُن کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اِس درجے اور قربت کی وجہ سے جو انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔ اِس حدیث سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے بھی اعلیٰ درجہ روحانیت کے مواقع حاصل ہیں، جس طرح پہلے زمانے کے لوگوں کو حاصل تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث رسول کا تقریبا پورا ذخیرہ کتابوں کی صورت میں آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ احادیث رسول، یا اقوال رسول وہی ہیں جن کو آپ کے معاصر اہلِ ایمان نے سُنا اور اُن سے ان کو وہ اعلیٰ روحانی غذا ملی جس نے انھیں اصحابِ رسول کا درجہ دے دیا۔ اب جو چیز غیر موجود ہے، وہ کلام نہیں ہے بلکہ صرف متکلم ہے۔ اس کمی کی تلافی خدا کی اس دنیا میں ناممکن نہیں بلکہ وہ پوری طرح ممکن ہے، بشرطیکہ اس معاملے کو کامل سنجیدگی کے ساتھ پوری طرح سمجھا جائے۔ ایک محدث نے بجاطور پر کہا ہے کہ : مَنْ كَانَ فِي بَيْتِهِ مَجْمُوعَةٌ مِنَ الْأَحَادِيثِ، فكأنما فِي بَيْتِهِ النَّبِيَّ يَتَكَلَّم (جس آدمی کے گھر میں احادیث کا ایک مجموعہ ہو، اُس کے گھر میں گویا کہ خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے) یہ بات کسی استعارے کے بغیر درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احیاء شخصیت بھی اُسی طرح ممکن ہے جس طرح احیاء سنت کو ممکن سمجھا جاتا ہے۔ اِس احیاء شخصیت کے لیے تین ضروری شرطیں ہیں:

1- اس کی پہلی شرط سنجیدگی ہے۔ لوگوں کو اس معاملے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے کہ وہ سچے متلاشی (seeker) بن جائیں۔ وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو لے سکیں۔ ہمارے اور پیغمبر کے دوران جو دوری ہے، وہ حقیقتاً فاصلے کی دوری نہیں ہے بلکہ مزاج کی دوری ہے۔ اگر آج کے لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں رسول اور اصحابِ رسول والا مزاج پیدا ہو جائے تو یہ دوری عملاً غائب ہو جائے گی۔ مزاجی مناسبت ماضی اور حال کے درمیان کا فاصلہ ختم کر دے گی۔ آج کا انسان بھی اُسی طرح خدا کے رسول سے جُڑ جائے گا جس طرح معاصر اہلِ ایمان اُن سے جُڑے ہوئے تھے۔ نفسیاتی طور پر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قربت کا تعلق حقیقتاً بعد مکانی یا قرب مکانی سے نہیں ہے بلکہ خود اپنے مزاج سے ہے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں جو لوگ تھے اُن میں سے بھی صرف

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page