Al-Risala · May 2007 · page 7

روحانی شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۷

انھیں لوگوں کو آپ کی حقیقی قربت ملی جو مزاجی اعتبار سے آپ سے قریب تھے۔ جو لوگ اپنے مزاجی اعتبار سے دور تھے، انھیں پیغمبر کا ہم عصر ہونے کے باوجود قربت کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ 2- اس سلسلے میں دوسری چیز یہ ہے کہ خدا کے منصوبے کو سمجھا جائے۔ خدا اپنے منصوبے کے تحت، ہر دور میں ایک اسپرچول جائنٹ پیدا کرتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں اسپرچول جائنٹ کا یہ درجہ پیغمبروں کو حاصل ہوتا تھا۔ بعد کے زمانے میں خدا ایسا مجدد پیدا کرتا ہے جو اپنی معرفت کے اعتبار سے اسپرچول جائنٹ کا مقام رکھتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کے لیے گویا پیغمبر کی غیر موجودگی کی تلافی ہوتا ہے۔ البتہ یہ تلافی صرف اُن لوگوں کے حصے میں آئے گی جو اُس کو پہچانیں اور پہچان کر اس سے استفادہ کریں۔

3- بعد کے زمانے میں اس مقصد کے لیے جو کام کرنا ہے، وہ خاص طور پر یہ ہے کہ اقوال رسول کا مطالعہ دوبارہ صحبت رسول کے حوالے سے کیا جائے ۔ یہ گویا پیغمبر کی تاریخ کو ری پراس (re-process) کرنا ہے۔ یہ گویا کہ صحبت رسول کا احیا کرنا ہے۔ یہ گویا کہ دوبارہ اپنے آپ کو صحبتِ رسول میں لے جانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو صحبت رسول کی توسیع کہہ سکتے ہیں۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی کام اعلیٰ اسپرچول شخصیت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس معاملے میں یہ کرنا ہوگا کہ حدیث کے مطالعے کے سلسلے میں بھی وہی طریقہ اختیار کریں جو قرآن کے مطالعے کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔ قرآن کے مطالعے کا طریقہ، عام طور پر، یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں کو اُس کے شانِ نزول یا اسباب نزول کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح احادیث رسول کا بھی شانِ نزول ہے۔ یہ شانِ نزول کبھی قولِ رسول کے ساتھ اشارۃً یا تفصیلاً موجود رہتا ہے اور کبھی موجود نہیں رہتا۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ گہرے مطالعے کے ذریعے حدیثوں کے ساتھ اُس کے شانِ نزول کو شامل کریں۔ اس طرح ہم اُس صورتِ حال کو جان لیں گے جس صورتِ حال میں پیغمبر اسلام نے کوئی بات کہی۔ حدیثوں کا اس طرح مطالعہ گویا کہ حدیثِ رسول کے ساتھ صحبت رسول کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک اعتبار سے اعادہ تاریخ ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ اسلوب ایک

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page