Al-Risala · May 2007 · page 13

ایک تاریخی جائزہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳

ایک تاریخی جائزہ

قرآن میں ایک تاریخی واقعے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: ومـن الـنـاس مـن يـجـادل فـي الله بغیر علم ولاهدى ولا كتاب منير (الحج: 8) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وسیع تر انطباق کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کے بارے میں بغیر ہدایت، خدائی اسکیم سے لڑتے ہیں:

Some people defy the divine scheme without having a guidance. اس آیت کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ پوری انسانی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ ساری تاریخ میں مسلسل یہ ہوتا رہا ہے کہ بڑے بڑے دماغ کسی رہنمائی کے بغیر محض اپنی ذاتی اُپج سے زندگی اور کائنات کی تشریح کرتے رہے۔ اس طرح انھوں نے انسانیت کے بڑے حصے کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

فلسفے کی مثال

تمام علوم میں فلسفہ شاید سب سے قدیم علم ہے۔ بڑی تعداد میں اعلیٰ دماغ، فلسفیانہ غور میں مشغول رہے ہیں لیکن فلسفہ انسانی علم میں کوئی مثبت اضافہ نہ کر سکا۔ مثال کے طور پر تقریباً تمام فلسفیوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کائنات کے مختلف مظاہر کو وحدت کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے خالق اور تخلیق دونوں کو ایک قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ایک ہی حقیقت تھی جو مختلف اشیا کی صورت میں اپنا ظہور کر رہی تھی۔ اسی فلسفیانہ تفکیر کے نتیجے میں تخلیق کے بارے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو وحدتِ وجود (monism) کہا جاتا ہے، سنسکرت میں اسی کو ادویت واد کہتے ہیں۔

یہ نظریہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک بڑے کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ انسان اپنے داخلی تقاضے کے تحت، ایک ایسی ہستی کو پانا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page