Al-Risala · May 2007 · page 14

فلسفے کی مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴

چاہتا ہے جو اُس سے برتر ہو، جو اس کے اعتماد کا سر چشمہ بن سکے ۔ مگر وحدتِ وجود کے نظریے میں انسان کی اس تلاش کا جواب نہیں۔ کیوں کہ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسان خود ہی خدا ہے۔ انسان کے باہر کوئی اور ہستی موجود نہیں جس کو وہ اپنا مرکز و محور بنا سکے۔ اس طرح وحدتِ وجود کے نظریے نے انسان کی سب سے بڑی طلب کو اس کا مطلوب فراہم کیے بغیر حیرانی اور سرگشتی کی حالت میں چھوڑ دیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ پوری تاریخ میں پیغمبر اٹھتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ زندگی کی تشریح کا زیادہ صحیح تصورِ وحدتِ وجود نہیں ہے بلکہ توحید (monotheism) ہے۔ اس پیغمبرانہ تصور کے مطابق، یہاں ایک قسم کی ثنویت(dualism) پائی جاتی ہے۔ یعنی خالق اور تخلیق دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک خدا ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق الگ ہے، اور تخلیق اُس سے الگ۔

اس پیغمبرانہ تصور کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف انسان اور کائنات کی قابلِ فہم تشریح مل جاتی ہے، بلکہ انسان کو وہ مطلوب بھی حاصل ہو جاتا ہے جس کا تقاضا اس کا پورا وجود کر رہا تھا۔ فلسفیانہ توجیہ کے نادرست ہونے کے بہت سے پہلو ہیں، مگر اس کی نادرستگی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے لیے ایک متباين (incompatable) تصور کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو چیز فطرتِ انسانی کے لیے متباين تصور کی حیثیت ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رد ہے۔ اس کے بعد اس کو رد کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

پیغمبرانہ ہدایت آدمی کو فکری عمل کے لیے رہنما اصول (guideline) دیتی ہے۔ ان اصولوں سے رہنمائی لینے والا آدمی فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ صحیح سمت کا اتباع کرتے ہوئے درست شاہ راہ پر اپنا سفر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے ۔ سائنس کی مثال فلسفے کے بعد دوسرا سب سے بڑا علم وہ ہے جس کو سائنس یا علومِ قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ سائنس اُس علم کا نام ہے جس میں مظاہرِ فطرت کی تحقیق کر کے فطرت کے اصول اخذ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page