Al-Risala · May 2007 · page 15

فلسفے کی مثال

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

کیے جائیں اور ان کی روشنی میں مادی دنیا کی تعمیر کی جائے۔ یہ علم ابتدائی صورت میں بہت پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچا ہے۔ سائنس نے انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ مادی قوانین کا اتباع کر کے اپنے لیے ایک پرکشش دنیا بنائی جاسکے۔ انسان ہمیشہ سے راحت اور آسائش کی زندگی کا طالب رہا ہے۔ سائنس نے پہلی بار ایسا کیا کہ بظاہر اس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ انسان اپنی خواہشوں کو واقعے کی صورت دے سکے۔

لیکن جہاں تک فکری پہلو کا تعلق ہے، سائنس نے انسان کو ایک بہت بڑی بے راہ روی میں ڈال دیا، ایک ایسی بے راہ روی جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کامل تباہی کے ہم معنیٰ ہے۔ وہ فکری گمراہی یہ ہے کہ دنیا میں مختلف قسم کے جو سامانِ حیات موجود ہیں، ان کو سائنس نے صرف یہ حیثیت دی کہ وہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کے طور پر ہیں۔ حالاں کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طور پر ہیں۔

سامانِ حیات کے سائنسی تصور کی روشنی میں انسان اور اس سامانِ حیات کے درمیان جو تعلق بنتا ہے، وہ وہی ہے جو حیوانات کا ان چیزوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ حیوان ان چیزوں کو صرف ذریعۂ انتفاع کے طور پر دیکھتا ہے، جس سے کوئی ذمے داری وابستہ نہ ہو۔ سائنسی خاکہ میں یہی حال انسان کا بھی ہو جاتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیوی ساز و سامان سے انتفاع اس کے لیے صرف رائٹ (right) کا ایک مسئلہ ہے، وہ ڈیوٹی (duty) کا مسئلہ نہیں۔ یہ تصور انسان کو اُس سطح پر لے جاتا ہے، جس کو حیوانی سطح کہا جاتا ہے۔

اس کے برعکس، سامانِ حیات کے بارے میں پیغمبرانہ تصور یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں امتحانی پرچہ (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے ساتھ براہِ راست طور پر ذمے داری کا تصور جڑا ہوا ہے۔ اس طرح پیغمبرانہ تصور آدمی کو مکمل طور پر ڈیوٹی کانشش (duty concious) بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page