نئی دہلی ، ۲۰ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰
کیا ہے جس کو آپ نے اپنے’’اشارات‘‘ میں ان کی طرف منسوب فرمایا ہے۔
نئی دہلی، ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۶ء طالبِ جواب وحیدالدین مراسلت نمبر۔۶ ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی، مدیر مجلّہ علوم القرآن (علی گڑھ) کا مولاناحمیدالدین فراہی کے بارے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
برادر محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ علی گڑھ سے شائع ہونے والے ششماہی مجلّہ علوم القرآن (جنوری۔ دسمبر ۱۹۹۱) میں آپ کا ایک مضمون دیکھا، اس کا عنوان یہ تھا:
’’ترجمان القرآن، مولاناحمیدالدین فراہی کی فکری اور اصلاحی تحریک‘‘۔
اپنے اس مضمون میں آپ نے یہ لکھا تھا کہ مولاناحمیدالدین فراہی علی گڑھ کے زمانۂ قیام میں’’نہ صرف عصری علوم سے آشنا ہوئے بلکہ عصری اسلوب ومزاج اور عصری اندازِ تحقیق وترسیل سے پوری واقفیت بہم پہنچائی۔ یہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل کیا اور فلسفۂ جدید کے ذوق آشنا ہوئے… یہ امر واقعہ ہے کہ قدیم و جدید کا جیسا مجمع البحرین اُن کی ذات والاصفات میں نظر آتا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۷۸) اس کے بعد مجھے سرائے میر (اعظم گڑھ) سے شائع ہونے والے سہ ماہی مجلّہ نظام القرآن کا شمارہ ستمبر، اکتوبر، نومبر ۲۰۰۵ ملا۔ اس میں آپ کا ایک مضمون اس عنوان کے ساتھ چھپا ہے: فکر فراہی، مرض اور علاج۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے دوبارہ لکھا ہے کہ مولاناحمیدالدین فراہی نے علی گڑھ میں’’جدید نظریات اور فلسفے سے واقفیت ہی حاصل نہیں کی بلکہ اُن کا گہرا مطالعہ کیا اور علمی اور ذہنی سطح پر اپنے آپ کو اس کام کے لیے تیار کیا جو اُن کے پیش نظر تھا… وہ جدید تعلیم سے براہِ راست واقف تھے‘‘۔ (صفحہ ۶۹) آپ کے ان دونوں مضامین میں آپ کے دعوے کے حق میں مولانافراہی کی کسی تحریر کا کوئی متعلق حوالہ موجود نہیں۔ میں نے خود مولاناحمیدالدین فراہی کی تحریریں دیکھی ہیں، مگر ان کی کسی تحریر یا کتاب میں ان کی تصویر مجھے نہیں ملی جس کا ذکر آپ نے اپنے مذکورہ دونوں اقتباس میں فرمایا ہے۔ ان کی تحریروں سے قدیم میں ان کی دست گاہ کا ثبوت تو ملتا ہے لیکن عصری افکار اور جدید علوم میں ان کی مہارت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues