نئی دہلی ، ۲۰ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱
براہ کرم متعین طور پر بتائیں کہ مولا نا حمید الدین فراہی کی کس کتاب یا کتاب کے کس صفحے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عصری افکار اور جدید علوم میں تبحر کا درجہ رکھتے تھے ، جیسا کہ آپ نے اپنے مضامین میں تحریر فرمایا ہے۔ نئی دہلی ، ۳۰ اپریل ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے انھیں یاد دہانی کے طور پر درج ذیل خط لکھا : برادر محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی! !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ۳۰ اپریل ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کے ایک مطبوعہ مضمون سے متعلق تھا۔ میں نے آپ سے آپ کی لکھی ہوئی ایک بات کی وضاحت طلب کی تھی ، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔ براہ کرم جلد جواب روانہ فرما کر شکریے کا موقع دیں۔ نئی دہلی ، ۲۶ مئی ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ے مولا نا محمد کلیم صدیقی ، سر پرست ماہ نامہ ارمغان شاہ ولی اللہ (پھلت ، ضلع مظفر نگر) کا ایک مضمون مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے متعلق ، ارمغان میں چھپا تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر میں نے انھیں یہ خط لکھا : برادر محترم مولا نا محمد کلیم صدیقی !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ماہ نامہ ارمغان ولی اللہ کا شمارہ اپریل مئی ۲۰۰۶ دیکھا۔ اس میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے ، اس کا عنوان یہ ہے : " حضرت مولا نا عبد اللہ عباس ندوی ، چند یادیں چند باتیں “ اس مضمون میں آپ ن۷ مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے کہ : حق و باطل کو قریب سے دیکھنے اور ان کے درمیان تحقیقی تقابل کے بعد حق کی عظمت آشکارا ہوتی ہے اور ایسی شخصیات جن کو مشرق و مغرب کے مے خانوں سے استفادے کا موقع ملتا ہے تو وہ حق کی عظمت اور اعتراف کے سلسلے میں صاحب تقلید نہیں رہتے بلکہ صاحب تحقیق ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ان کی زبان و قلم سے جو بھی نکلتا ہے اس سے حق پر ان شخصیات کا تحقیقی اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ مولا نا عبد اللہ عباس ندوی کو اللہ نے اس کا موقع دیا تھا... انھوں نے مغرب کی راجدھانی انگلینڈ میں مغربی علوم، تہذیب و معاشرت کا تحقیقی و تقابلی نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ وہ وہاں کے محققین میں شمار کیے جاتے تھے‘‘۔ (صفحہ ۹)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues