فلسفے کی مثال
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
سائنسی تصور کے مطابق، یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی زندگی کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اِس لیے دنیا میں ہے کہ وہ بقدر امکان آرام اور آسائش کی چیزیں حاصل کرے اور پھر مر جائے۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کے اندر اپنا امتحان دے، اور پھر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے مطابق، انعام یا سزا کی صورت میں اس کا نتیجہ پائے۔
پیغمبرانہ تصور کے مطابق، خالق نے ہماری زندگی کو دو دوروں میں تقسیم کیا ہے۔ موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ۔ سائنسی تصور کے مطابق، زندگی کی معنویت کو سمجھنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اس عارضی مرحلۂ حیات کو کتنا زیادہ پر آسائش بنا سکا۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، سارا معاملہ جنت سے تعلق رکھتا ہے۔ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو امتحان کا ایک پر چہ سمجھے۔ وہ چیزوں کے درمیان اس احساس کے ساتھ رہے کہ اُسے دنیا میں اُس روش کو اختیار کرنا ہے جو موت کے بعد کے طویل تر مرحلۂ حیات میں اس کو کامیاب بنا سکے۔ لکھنؤ اور سہارن پور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:
Mohmmad Hassan Nadwi Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, Sattya Market, Sector: 17, Lucknow (U.P.) 226016 Mobile: 09305356090, Email: mhcps@yahoo.com Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chawk Saharanpur-247001, U.P. Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com