Al-Risala · January 2007 · page 22

نئی دہلی ، ۲۰ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲

آپ کے اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی، مغربی علوم میں صاحب تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا شمار’’مغرب کے محققین‘‘ میں کیا جاتا تھا۔ جہاں تک مشرقی موضوعات کا تعلق ہے، ان میں مولانا عبد اللہ عباس ندوی بلا شبہ دست رس رکھتے تھے، لیکن میں ان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے اور ان کا شمار مغرب کے محققین میں ہوتا تھا۔ براہ کرم مولانا عبد اللہ عباس ندوی کی کسی ایسی کتاب یا مقالے کا حوالہ تحریر فرمائیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں تحقیقی دست گاہ رکھتے تھے۔ اس قسم کا کوئی متعین حوالہ بھیج کر ممنون فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۰؍اپریل ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین کافی انتظار کے بعد جب مولانا موصوف نے میرے خط کا کوئی جواب اور اپنے دعوے کے حق میں کوئی حوالہ نہیں فرمایا تو میں نے دوبارہ انھیں ایک خط روانہ کیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: برادر محترم مولانا محمد کلیم صدیقی!

عرض یہ کہ ۱۰؍اپریل ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کے ایک مطبوعہ مضمون سے متعلق تھا۔ میں نے آپ سے آپ کی تحریر کردہ ایک بات کا حوالہ دریافت کیا تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔

براہ کرم میرے خط کا جواب جلد روانہ فرما کر شکریے کا موقع دیں۔

نئی دہلی، ۲۵ مئی ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین طویل انتظار کے بعد جب کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے ان کو درج ذیل خط روانہ کیا: برادر محترم مولانا محمد کلیم صدیقی!

یہ عریضہ میں اپنے سابقہ خط کے ضمن میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آپ نے اپنے ماہ نامہ ارمغان شاہ ولی اللہ (اپریل ۔ مئی ۲۰۰۶) میں لکھا تھا کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں صاحب تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ اُن کا شمار مغرب کے محققین میں ہوتا تھا۔ مگر میں ان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے۔ میں نے آپ سے آپ کے اس بیان کا متعین حوالہ دریافت کیا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page