اردو زبان کی اہمیت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
ترجمہ بھی ایسا نہیں ہے جس کو قرآن کا درست ترجمہ کہا جاسکے۔
ایسی حالت میں قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ لوگوں کے لیے سب سے زیادہ بڑی خبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے جتنی جلد ممکن ہو سکے، ہم قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہوگا۔ اس وقت ہمارے سامنے ایک مسئلہ درپیش ہے، اور وہ آئی ڈنٹٹی (identity) کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ہمارے دعوتی مشن کے لیے آئی ڈنٹٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔ عام طور پر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ـــــ الرسالہ مشن ایک قسَم کا 'ون مین شو' ہے: The Al-Risala mission is a ‘one man show’. اس امیج کو بدلنا ضروری ہے، ورنہ ہمارا مشن ایک انٹرنیشنل مشن بننے کے بجائے ایک قسَم کا فرقہ(sect) بن جائے گا۔ اگر ہم قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ شائع کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انشاء اللہ یہ قرآنی کام ہمارے مشن کے لیے ایک آئی ڈنٹٹی ثابت ہوگا، اور بلاشبہ یہ سب سے بڑی آئی ڈنٹٹی ہے جس کو ہم اس دنیا میں حاصل کر سکتے ہیں۔
آئی ڈنٹٹی کے علاوہ، اس میں ایک اور بہت بڑا پہلو موجود ہے، وہ یہ کہ ترجمۂ قرآن کا یہ کام ہمارے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا بوسٹ(boost) (boost) ثابت ہوگا۔ ہر مشن کی کامیابی کے لیے ایک ’بوسٹ‘ درکار ہوتا ہے، اور قرآن کا درست انگریزی ترجمہ، انشاء اللہ ہمارے مشن کے لیے اسی طرح کا ایک بوسٹ ثابت ہوگا۔
اردو زبان کی اہمیت
میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے دعوتی مشن (سی پی ایس) کے تمام ممبر اُردو زبان سیکھیں۔ میری اُردو کتابیں، اسلام کے صحیح فہم اور اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــــ لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، مشكوة المصابيح، رقم الحديث : 276) یعنی بعد کے زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کی صرف لکیریں رہ جائیں گی۔