Al-Risala · May 2007 · page 33

اخوانِ رسول کا رول

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

پروگرام بناسکیں۔ میں نے آپ کو ایک داعی کا واقعہ بتایا تھا۔ وہ ایک ڈاکٹر کو اسلام کی دعوت دینا چاہتے تھے۔ اُن کے اندر دعوتی اسپرٹ بھری ہوئی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مذکورہ ڈاکٹر سے مل کر کچھ دعوتی چیزیں کسی طرح وہ ڈاکٹر کو پڑھنے کے لیے دے سکیں۔

چناں چہ انھوں نے مذکورہ ڈاکٹر کے کلنک کا ایک کارڈ لیا۔ اور اس طرح وہ مریضوں کی لائن میں کافی دیر تک اپنی باری آنے کے انتظار میں کھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں صرف آپ کو کچھ ریڈنگ میٹریل دینے کے لیے آیا ہوں۔ یہی ایک سچے داعی کی صفت ہے۔ وہ کسی پیشگی پروگرام کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ صورت حال کے مطابق ،خود اپنا پروگرام بنالیتا ہے۔ اُس کو صرف اسی بات کی دھن ہوتی ہے کہ کس طرح خدا کا پیغام سارے انسانوں تک پہنچ جائے۔

اخوانِ رسول کا رول

میں نے کئی بار آپ کے سامنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کی ہے جس میں آپ نے اپنے ’اخوان‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا: وددتُ أنّا قدر أینا إخواننا، قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله، قال أنتم أصحابی وإخواننا الذين لم يأتوابعد۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 367) یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔

مذکورہ حدیث میں پیغمبر اسلام نے اپنے جن ’اخوان‘ کے متعلق بتایا ہے، اُن سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو معرفت کی سطح پر رسول کو پہچانیں گے اور بعد کے زمانے میں وہ دعوتی مقصد کے لیے اٹھیں گے، تاکہ سارے انسانوں کو خدا کا ابدی پیغام پہنچادیں۔ اخوانِ رسول معروف معنوں میں کوئی ٹائٹل نہیں، بلکہ وہ ایک ذمے داری ہے۔

’اخوانِ رسول‘ کا لفظ ہزار سال سے پر اسرار بنا ہوا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں یہ واضح نہ ہوسکا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page