اخوانِ رسول کا رول
الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴
کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میں ان کا رول کیا ہوگا۔ اسلامی تاریخ میں جس طرح، امکانی طور پر، یہ لفظ پہلی بار ایک گروپ پر منطبق ہو رہا ہے اُسی طرح یہ بھی پہلی بار واضح ہو رہا ہے کہ اخوان رسول کا رول کیا ہوگا۔
اس حدیث سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ما بعد سائنس دَور (post scientific era) میں دعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے، یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اُس کی خالص اور بے آمیز صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔
سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم 'اخوان رسول' کے اس ٹائٹل کے لیے امکانی امیدوار (potential canditates) گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس امکان کو واقعہ بنائے۔
اس امکان کو واقعہ بنانا اس طرح ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل کریں۔ اور اُس کے بعد قرآن کے صحیح انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالہ کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اور اس طرح حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیر خواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ سارے انسانوں کے حقیقی خیر خواہ بن کر اٹھیں ۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور ہمدردی ہو۔ آپ کا ٹارگیٹ کیا ہو، اس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى على وجه الأرض بيت مدر و لا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 42) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرمادے۔
یہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ حدیث کی زبان میں امکاناتِ دعوت کا اظہار ہے۔ یہ اُس دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کا ظاہر ہ سامنے آئے گا اور اُس کو استعمال کر کے ہر انسان تک