Al-Risala · May 2007 · page 45

United we stand, divided we fall.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵

سے رنجیدہ رہاہوں کہ آپ ایک مظلوم ترین انسان ہیں۔ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے آپ مسلمانوں کو جو مشورے دیتے آئے ہیں اور جن کے صلے میں آپ کو کیا کیا نہ ذہنی اذیتیں برداشت کرنی پڑی ہیں، آج ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کسی اعتراف اور احساس ندامت کے بغیر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔ مالے گاؤں ہی کی مثال لے لیجیے ۔ ستمبر 2006 کو یہاں بم دھماکہ ہوئے، 30 افراد ہلاک اور 300 افراد زخمی ہوئے ۔ مسلمانوں کے اس صبر کی تمام طبقوں کی جانب سے خوب خوب تعریفیں ہوئیں اور ابھی بھی ہو رہی ہیں۔ پولیس افسران، سیاست دان، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور سونیا گاندھی نے بھی مسلمانوں کے اس صبر و ضبط کی سراہنا کی ۔ حالاں کہ یہ صبر مسلمانوں نے ’بعد از خرابی بسیار کیا ہے ۔ 2001 کے فسادات میں مالے گاؤں کے اطراف و جوانب کے لگ بھگ 35 دیہاتوں کی مساجد گرا دی گئی تھیں اور وہاں کے مسلمانوں کے گھروں کا بھی یہی حال ہوا تھا۔

اس سب کے باوجود کسی شخص میں یہ اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ یہ اعتراف کرے کہ آپ طویل عرصے سے مسلمانوں کو یہی مشورہ دیتے آئے ہیں ۔ آج جب مختلف طبقات کی جانب سے علما کی رہنمائی کی تعریفیں ہو رہی ہیں تو یہ حضرات بڑے آرام سے کسی احساس اور اعتراف کے بغیر اس کریڈٹ کو اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ تازہ الرسالہ میں دی گئی خط و کتابت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اور بھی کئی طریقوں سے آپ کی حق تلفی اور آپ کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ دین کو عصری اسلوب میں آپ پیش کر رہے ہیں تاہم کچھ لوگ جو بے بنیاد طور پر اس کا سہرا اپنی اپنی محبوب شخصیتوں کے سر باندھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس سے غلط ذہن بنتا ہے۔ دار الدعوہ کا تصور بھی سب سے پہلے آپ نے پیش کیا، لیکن کوئی بھی اس کا اعتراف نہیں کر رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کا بھی کریڈٹ خود لے رہے ہیں ۔ دیانت داری کا تقاضا اور ضمیر کی آواز وغیرہ ایسے لوگوں کے نزدیک سب سے معنی ہیں۔ افسوس، صدافسوس، یہ اُن لوگوں کا حال ہے جو شب و روز اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ ( رمضان شکور، مالے گاؤں) )

10- شہر بہرائچ (یوپی) میں برادرم رفیع احمد انصاری ( بھٹے والے Tel. 941 544 2201) اور برادرم عبداللہ انصاری کے مخلصانہ تعاون سے الرسالہ مشن کے دعوتی لٹریچر کی اشاعت اور توسیع کے لیے ایک اسٹڈی فورم قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت، تعلیم یافتہ حضرات کی ایک ٹیم نے الرسالہ کی مطبوعات کا اجتماعی طور پر مطالعہ شروع کر دیا ہے۔ 11 - لکھنؤ میں برادرم محمد سلمان نوری ( ناظم مدرسہ سید نا عمر فاروق ، رستم نگر ، چوک لکھنؤ (1027 980 983 .Tel) کے تعاون سے دعوتی مقصد کے تحت، ایک دار المطالعہ قائم ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی مرکز ( نئی دہلی ) کی طرف سے دعوہ بک لٹس (Dawah Booklets)، اور الرسالہ کی تمام مطبوعات کا ایک مکمل سیٹ اُن کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2007 All issues

Printed page