مسیحی ماڈل کی آمد ثانی
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۴
قرآن میں پیغمبر اسلام کے علاوہ پچھلے نبیوں کا بھی بار بار ذکر آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے معاملے میں خدا کی سنت ایک طرف یہ تھی کہ انھیں ایک ہی دین ہدایت دیا گیا ۔ چناں چہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کُلّاً ہدینا نوحاً ہدینا (الأنعام: 85) یعنی نظری اور اعتقادی اعتبار سے تمام نبیوں کو ایک ہی دینِ ہدایت عطا کیا گیا۔ دینِ ہدایت کے اعتبار سے ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔
دوسری طرف قرآن کی ایک اور آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق موجود تھا۔ اس حقیقت کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجاً (المائدہ: 48)
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ ہدایت کے اشتراک کے باوجود ، ہر نبی کو ایک ایسی چیز بھی دی گئی جو دوسرے نبیوں سے مختلف تھی۔ قرآن کے الفاظ میں یہ ’منہاج‘ ہے ۔ منہاج سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہم طریق کار (method) کہتے ہیں ، یعنی ہر نبی کا دین، نظریاتی اعتبار سے ایک تھا، لیکن اس کے انطباق کے معاملے میں زمانی حالات کے اعتبار سے مختلف طریقے اختیار کیے گئے ۔ اس کی مختلف مثالیں پیغمبروں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ دونوں مصر میں پیغمبر بنائے گئے ۔ حضرت یوسف نے اپنے زمانے کے مشرک بادشاہ کے اقتدار کے تحت ، محکمہ غذا (ministry of food) کا چارج قبول کر لیا۔ اس کے برعکس ، حضرت موسیٰ کے زمانے کے مشرک بادشاہ سے ان کا ٹکراؤ ہوا، یہاں تک کہ خدا نے حضرت موسیٰ کی مدد کی اور مشرک بادشاہ کو اُس کے لشکر سمیت تباہ کر دیا۔
یہی معاملہ پیغمبر اسلام ﷺ کا بھی ہے ۔ آپ بلا شبہ آخری پیغمبر (final prophet) تھے ۔ لیکن آپ ہر صورت حال کے لیے آخری نمونہ (final model) نہ تھے۔ چناں چہ قرآن میں آپ کے لیے اُسوہ حسنہ کا لفظ آیا ہے ، نہ کہ اسوہ کاملہ کا۔ (الاحزاب: 21) کسی پیغمبر کو فائنل ماڈل سمجھنا خدا کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنی ہے۔ ایسی تنسیخ ممکن نہیں، اس لیے عملی اعتبار سے کسی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues