Al-Risala · June 2007 · page 5

مسیحی ماڈل کی آمد ثانی

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۵

پیغمبر کا فائنل ماڈل ہونا بھی ممکن نہیں۔ فائنل پراکٹ کا تعلق، دین کے نظریاتی حصے سے ہے۔ اور نظریاتی اعتبار سے بلاشبہ ایک پیغمبر فائنل پیغمبر ہوسکتا ہے، لیکن ماڈل کا تعلق، خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے عملی اعتبار سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔ قرآن کی اصطلاح کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’الدّین‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبر تھے، لیکن منہاج‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں کا زمانہ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا نا قابل فہم بات ہے۔ اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمد ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمدثانی ہے۔ یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابلِ انطباق (applicable) بن جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے ماڈل اور پیغمبر مسیح کے ماڈل میں کیا فرق ہے۔ یہ فرق نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا ماڈل یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں اپنے دعوتی مشن کا آغاز کیا۔ اس کے بعد مخاطبین کی طرف سے سخت مخالفت پیش آئی۔ اس کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو اپنا مستقر بنایا۔

اب مخالفین کی طرف سے حملے کیے گیے ۔ اس کے نتیجے میں دفاعی جنگ پیش آئی۔ اس کے بعد آپ نے اپنے حریفوں سے وہ صلح کی جو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ آخر میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا اور پھر عرب میں آپ کا اقتدار قائم ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں مسیح کے ماڈل میں آغاز میں بھی دعوت ہے اور انجام میں بھی دعوت۔ مسیح کے دعوتی ماڈل میں ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) کے واقعات موجود نہیں۔

محمدی ماڈل میں ہجرت اور جنگ اُس کے واضح اجزا کے طور پر شامل ہیں، لیکن اب حالات

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page