Al-Risala · June 2007 · page 6

مسیحی ماڈل کی آمد ثانی

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۶

نے ہجرت اور جنگ کو ناقابلِ عمل بنا دیا ہے۔ اب ساری دنیا میں ماڈرن نیشنل ازم کا زمانہ ہے۔ ہر ملک میں نیشنل حکومتیں قائم ہیں۔ ماڈرن نیشنل ازم نے اب ہجرت جیسے طریقے کو عملی طور پر ناممکن بنا دیا ہے۔ یہی معاملہ جنگ کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) نے جنگ جیسے طریقے کو بالکل ناقابلِ اختیار بنا دیا ہے۔ اب جنگ کا انتخاب صرف ایک دیوانگی کا فعل ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

دوسری طرف حالات میں جو جدید تبدیلی ہوئی ہے، وہ عین اسلامی دعوت کے حق میں ہے۔ میری مراد جدید تہذیب سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہجرت اور جنگ کے بغیر صرف پرامن جدوجہد کے ذریعے ایک انٹرنیشنل دعوہ ایمپائر قائم کیا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانے میں ساری طاقت سیاسی اقتدار کے پاس ہوتی تھی۔ اب محدود ایڈمنسٹریشن کے سوا ساری طاقت اداروں (institutions) کے پاس چلی گئی ہے۔

اس نئے امکان کو سیکولر میدان میں دوسرے لوگ بھرپور طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً اسی نئے امکان کا سیکولر استعمال کر کے یہودیوں نے امریکا میں اپنا میڈیا ایمپائر بنا لیا ہے۔ چینیوں نے ملیشیا میں اپنا کمرشیل ایمپائر بنا لیا ہے۔ عیسائیوں نے ہندوستان میں اپنا ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا ہے، مغرب سیاسی اعتبار سے، ہندوستان سے واپس چلا گیا تھا، لیکن اب وہ یہاں دوبارہ اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنارہا ہے، وغیرہ۔ اسی طرح اسلام کے پیرو خالص پرامن تدبیروں کے ذریعے ایک دعوہ ایمپائر بنا سکتے ہیں۔ مگر دعوہ ایمپائر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نئے حالات کو سمجھا جائے۔ نئے امکانات کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق، استعمال کیا جائے۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو ہم نے مسیحی ماڈل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page