Al-Risala · June 2007 · page 7

تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۷

تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک

تاریخ کیا ہے ۔ تاریخ علم کی ایک شاخ ہے جس میں ماضی کا منظم مطالعہ کیا جاتا ہے : History — a systematic study of past events قدیم زمانے سے تاریخ کے مطالعے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ سیاسی واقعات (plitical events) کو یونٹ بنا کر حالات کو قلم بند کیا جائے ۔ مثلاً انڈیا کے حوالے سے اُس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے راجاؤں کے عہد کا ذکر کیا جائے اُس کے بعد مغلوں کا دَور ، اِس کے بعد انگریزوں کا دَور، اُس کے بعد کانگریس کا دَور، وغیرہ ۔ موجودہ زمانے میں آرنلڈ ٹائن بی (وفات : 1975) نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اُس نے تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر اپنی مشہور کتاب 'اسٹڈی آف ہسٹری' (A Study of History) تیار کی۔

تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو اُس میں یہی ترتیب نظر آئے گی، مگر اِس طریق مطالعہ میں تاریخ کا ایک اہم پہلو چھوٹ گیا ہے، اور وہ ہے خدا کے پیغمبروں کی تاریخ ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معروف تاریخ کے ساتھ تاریخ کا ایک اور دھارا ہر زمانے میں چلتا رہا ہے۔ یہ پیغمبروں کی تاریخ کا دھارا ہے۔ مگر تاریخ کا یہ دھارا مدّوَن تاریخ میں بہت کم رکارڈ ہو سکا۔

پیغمبروں کی تاریخ کا ماخذ نسبتاً بہت محدود ہے۔ بنیادی طور پر اُس کے تین ماخذ ہیں ـــ بائبل، قرآن اور حدیث اور اَثریا ت (archaeology) ۔ ببلکل لٹریچر (Biblical literature) میں اِس سلسلے میں کافی معلومات پائی جاتی ہیں، لیکن وہ بہت کم مستند ہیں۔

قرآن اور حدیث کی حیثیت تاریخ انبیاء کے ایک مستند ماخذ کی ہے، لیکن اہل علم کے نقطہ نظر کے مطابق ، اِس کی حیثیت زیادہ تر اعتقادی ہے ۔ آرکیالوجی ، یعنی کھدائی کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اہل علم کے نزدیک مستند ہیں، لیکن اُن کا بڑا حصہ استنباطی معلومات کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم موجود معلومات کی روشنی میں ہم تاریخ انبیاء کا ایک مختصر خاکہ مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page