تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۸
مذہبی عقیدے کے مطابق ، آدم پہلے انسان تھے اور ساتھ ہی پہلے پیغمبر بھی۔ آدم مکمل معنوں میں ایک انسان تھے۔ آدم کے بعد طویل تاریخ میں برابر خدا کے پیغمبر آتے رہے ، ہر زمانے میں اور ہر مقام پر۔ یہ سلسلہ مسیح ابن مریم تک جاری رہا ۔ اُس کے بعد 570 میں خدا نے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کو پیدا کیا۔ وہ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اُن کے بعد اب اور کوئی نبی آنے والا نہیں۔
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے آنے والے پیغمبروں پر خدا کا جو کلام اترا ، وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ ان پیغمبروں کی زندگی کا بھی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتاب کیوں صحیح صورت میں محفوظ نہ رہی۔ اس کا سبب بنیادی طور پر یہ ہے کہ کسی پیغمبر کی کتاب یا اس کا کلام صرف اُس وقت صحیح صورت میں محفوظ رہ سکتا ہے جب کہ اُس کے معاصر پیروؤں کی تعداد کافی زیادہ ہو۔ تا کہ خود پیغمبر کی نگرانی کے تحت اُس کے زمانے میں حفاظت کا کام ممکن ہو سکے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں کے ساتھ ایسا نہ ہوسکا۔ بعد کی نسلوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو مرتب کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کیوں کہ اُس وقت تک پیغمبر کی چھوڑی ہوئی تعلیمات میں کافی بگاڑ آچکا تھا۔
مثال کے طور پر حضرت مسیح کو لیجیے۔ حضرت مسیح کے معاصر پیرو بہت کم تھے۔ اُن کے حالات اتنے سقیم تھے کہ حضرت مسیح کے کلام کو محفوظ کرنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا۔ بعد کی نسلوں میں حافظے کی مدد سے حضرت مسیح کے احوال یا ان کا کلام مرتب کیا گیا ، لیکن نسل در نسل تبدیلی ہونے کی بنا پر بعد کے ناقلین کو حضرت مسیح کے بارے میں جو کچھ ملا ، وہ کافی بدل چکا تھا۔ اب بائبل کی صورت میں جو چیز موجود ہے ، وہ حضرت مسیح کے بارے میں بعد کے زمانے کا ریکارڈ ہے ، جب کہ وہ بدلتے بدلتے اپنی اصل حیثیت کو ختم کر چکا تھا۔
پیغمبرِ اسلام کے ساتھ خدا کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کی لائی ہوئی خدائی کتاب (قرآن) پوری طرح محفوظ ہوگئی۔ اس بنا پر اب نے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ آپ کی لائی ہوئی کتاب اب پوری
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues