Al-Risala · June 2007 · page 9

تاریخ دعوت : آدم سے دابہ تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۹

طرح مستند صورت میں موجود ہے۔ آپ کے متبعین نسل بعد نسل دنیا میں پائے جارہے ہیں۔ یہ چیزیں پیغمبر کا بدل ہیں۔ پیغمبر نے جو کام ذاتی طور پر کیا تھا، اب وہی کام پیغمبر کے متبعین کے ذریعے نسل درنسل ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ دوسرے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتاب زمانہ تبدیلی میں مرتب کی گئی، جب کہ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی کتاب دورِ اول ہی میں محفوظ کر لی گئی، اس سے پہلے کہ اُس کے اندر کوئی تبدیلی واقع ہو۔

پیغمبرانہ مشن کی اس تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اُس کے چند دور قرار پاتے ہیں۔ یہ ادوار تاریخی ترتیب کو نہیں بتاتے، بلکہ عمل کی مختلف نوعیت کو بتاتے ہیں۔ ان ادوار کو حسب ذیل تقسیمات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

1- آدم سے لے کر مسیح تک کا زمانہ۔

2- ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے ایک نئی نسل کی تیاری۔

3- اصحابِ رسول کی صورت میں ایک منتخب ٹیم کی تشکیل۔

4- سیاسی جبر کا خاتمہ اور آزادی کے دور کا آغاز۔

5- توہماتی طرزِ فکر کا خاتمہ، فطری حقائق کے انکشاف کے بعد سائنسی دلائل کے ذریعے دعوتی کام کا آغاز۔

6- سائنسی انقلاب کا ظہور میں آنا۔

7- دابّہ (النمل : 82) کا ظہور اور عالمی دورِ دعوت کا آغاز۔

8- اخوانِ رسول کا رول۔

مذکورہ درجہ بندی میں پہلا زمانہ وہ ہے جو حضرت آدم اور پیغمبر اسلام کے درمیانی زمانے میں آنے والے پیغمبروں سے تعلق رکھتا ہے۔ ان تمام پیغمبروں کے زمانے میں بظاہر کوئی بڑا انقلابی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن اُن میں سے ہر ایک نے نہایت اہم کام انجام دیا۔ یہ تمام پیغمبر مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں آئے۔ ہر ایک نے اپنے زمانے کے لحاظ سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page