Al-Risala · June 2007 · page 14

شاہِ راہِ دعوت سے انحراف

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴

شاہِ راہِ دعوت سے انحراف

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی تاریخ کے تین زمانوں کو معیاری زمانہ قرار دیا ہے۔ اسی لیے ان کو ’قرونِ مشہود لھا بالخیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ تین زمانے یہ ہیں: عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین۔ ان تین قرون کو تین جنریشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ پہلی جنریشن وہ ہے جب کہ پیغمبرِ اسلام کی ذات، مسلم معاشرے کا مرکز و محور بنی ہوئی تھی۔ دوسری جنریشن وہ ہے جب کہ سماج پر صحابہ کا غلبہ تھا اور تیسری جنریشن وہ ہے جب کہ تابعین مسلم معاشرے میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے بعد مسلم معاشرے میں زوال کا دور شروع ہوگیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی تین جنریشن تک اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ تھا۔ اُس زمانے کے مسلمان، عرب کے اندر اور عرب کے باہر، اسلام کی دعوت پھیلانے میں مشغول رہے۔ اُس زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ ساری انسانیت اُن کا کنسرن (concern) بنی ہوئی تھی۔ عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔ فقہ کی تدوین دراصل احکام کی تدوین کے ہم معنی تھی۔ چنانچہ فقہ کی کتابوں میں احکام سے متعلق تمام ابواب ملتے ہیں، لیکن دعوت الی اللہ کا باب فقہ کی کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن ختم ہوا، اور احکامی ذہن ہر طرف پھیل گیا۔ اسلام کی اشاعت اگرچہ اس کے بعد بھی جاری رہی، لیکن وہ اسلام کی اپنی داخلی قوت کے ذریعے تھی، نہ کہ مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش کے ذریعے ۔ اب مسلمانوں کی تمام سرگرمیاں ، فکری اور عملی دونوں، مسلم رُخی (Muslim-oriented) ہوگئی ہیں ۔ اب مسلمان عالمی مشن کا عنوان نہ رہے، بلکہ وہ دوسری کمیونٹی کی طرح ایک محدود کمیونٹی بن کر رہ گئے ہیں۔

آج سب سے زیادہ جس سنت کے احیاء کی ضرورت ہے، وہ یہی سنتِ دعوت ہے۔

مسلمانوں کے درمیان جب تک سنتِ دعوت کو زندہ نہ کیا جائے ، اُن کے اندر کوئی بڑی اسلامی بیداری

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page