احکامِ دین
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱
کے ایک مستقل اصول کے تحت تھا۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: اللہ کسی بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا (البقرہ : 286)۔ یہی بات قرآن کے دوسرے مقام پر بھی کہی گئی ہے۔ (التغابن : 16)
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے مطلق احکام خاص طور پر تین پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ عقیدہ، عبادت اور اخلاق۔ یہ تینوں قسم کے احکام اپنی نوعیت کے اعتبار سے مطلق ہیں، یعنی ان پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔ خود اپنے ارادے سے ان میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ ان کی ادائیگی میں کسی قسم کا فرق صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ مجبوری کی کوئی صورت پیدا ہو گئی ہو، جس کو شریعت میں اضطرار (البقرہ : 173) کہا گیا ہے۔ ان تینوں قسم کے احکام میں حالات کی نسبت سے فرق کرنے کی اجازت ہے، مگر یہ اجازت صرف بربنائے مجبوری ہے۔ ان تینوں احکام کا تعلق ایک شخص کے انفرادی رویے سے ہے اور ہر شخص کے ذاتی حالات ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعمیل کس طرح کرے۔
احکام دین کی تعمیل فہرست احکام کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کے حالات کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ آدمی کے حالات اُس کو جس حد تک ان احکام پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اُسی حد تک وہ اُن پر عمل کرنے کا مکلف ہوگا۔
تعمیل احکام کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ یہی فطری ترتیب ایک شخص اور ایک قوم سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ کسی شخص اور قوم کے حقیقی حالات ہی اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ احکام دین کی تعمیل کس طرح کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues