انسان کی منزل
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲
انسان کی منزل
انسان اپنے لیے ایک محفوظ دنیا چاہتا ہے، مگر سونامی (دسمبر 2004) کا واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کو صرف ایک غیر محفوظ دنیا ملی ہے۔ انسان لامحدود زندگی چاہتا ہے، مگر موت کا واقعہ اس کو یاد دلاتا ہے کہ اس کو یہاں جینے کے لیے ایک محدود مدت ملی ہے۔ انسان آئیڈیل خوشی چاہتا ہے، مگر مختلف قسم کے حادثات یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اس دنیا میں صرف ایسی خوشی مل سکتی ہے جو اس کے مطلوب آئیڈیل سے بہت کم ہے۔ انسان استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے، مگر اس کو عملاً آج (today) کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر اتاہ پوٹینشیل موجود ہے، مگر ہر انسان اپنے پوٹینشیل کا ایک فیصد استعمال کرتا ہے اور اس کے بعد اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس سوال کا جواب خود انسان کی فطری ساخت کے اندر موجود ہے۔ استثنائی طور پر انسان کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) کے تصور میں جیتے ہیں۔ کرہ ارض پر انسان واحد ایسی مخلوق ہے جو اپنے اندر کل کا تصور رکھتا ہے۔ یہی فطرت کی طرف سے مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے آج میں ڈھونڈ رہا ہے وہ اس کے کل میں موجود ہے۔ وہ اپنے جس مطلوب کو پرزنٹ میں پانا چاہتا ہے وہ خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، اس کے مستقبل میں رکھ دیا گیا ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی عمر کے دو حصے ہیں۔ ایک ماقبل موت دَور (pre-death period) اور دوسرا مابعد موت دَور (post-death period)۔ انسان کی مطلوب دنیا (desired world) اس کے مابعد موت دَور (post-death period) میں رکھی گئی ہے۔ ماقبل موت دَور کی حیثیت امتحان گاہ (selective ground) کی ہے۔ جو عورت یا مرد ماقبل موت دَور میں خود کو اہل (qualify) ثابت کریں گے، وہ مابعد موت دَور میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) میں بسائے جانے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues