پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴
ف ریشنل تھنکنگ، احمد آباد۔
پیغام
(برائے سوسائٹی فاروی پروموشن آف رینشل تھنکنگ، احمد آباد - 380007)
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مسلمان کیا کریں۔ مگر حقیقی واقعات کے اعتبار سے زیادہ درست سوال یہ ہے کہ دوسوسالہ عمل کے باوجود موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششیں بے نتیجہ کیوں ہو گئیں۔ اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں احیاء کے نام سے تحریکیں اٹھیں وہ سب کی سب رَدِ عمل کی تحریکیں تھیں، نہ کہ مثبت عمل کی تحریکیں ۔ رَدِ عمل کے طور پر جو کام کیا جائے اُس کے بارے میں قدرت کا قانون یہ ہے کہ اُس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششوں کا بے نتیجہ ہو جانا خود قدرت کے قانون کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی کی سازش یا ظلم کی بنا پر۔ رَدِ عمل کیا ہے اور مثبت عمل کیا ۔ رَدِ عمل یہ ہے کہ اپنے مسئلے کا ذمے دار دوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف لڑائی چھیڑ دی جائے ۔ اور مثبت عمل یہ ہے کہ مسئلے کو خود اپنی کوتاہی کا سبب سمجھا جائے اور اپنے داخلی سبب کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
موجودہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ اس لیے یہ بات بالکل فطری ہے کہ اس دنیا میں ایک کو دوسرے سے زک یا نقصان پہنچے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس نقصان کو چیلنج کے طور پر لے ۔ وہ سمجھے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ دوسرے کی تیاری اور میری بے تیاری کا نتیجہ ہے ۔ اور پھر اپنی اس کمی کو دور کر کے اس کا حل نکالے، نہ کہ دوسرے کے خلاف شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ کھڑا کرے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو سب سے پہلے یہ کام کرنا ہے کہ وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کریں۔ تعلیم عورت اور مرد کو باشعور بناتی ہے۔ اور باشعور لوگ ہی معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں اور اُس کے حل کی واقعی تدبیر اختیار کر کے کامیاب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ عمل کو منصو بند انداز میں کیا جائے۔ منصوبہ بہ بند حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues