پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 30 مارچ 2007 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اُس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدہ حدیبیہ پیش آیا۔ اس پر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں یہ آیت اتری: إنا فتحنا لك فتحاً مبیناً (الفتح : 1)۔ اس آیت میں ’فتح‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں فََتْحَ کے معنی ہیں کھولنا (to open)۔ لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ : الفتح نقیض الإغلاق ۔ یعنی فتح، بند کرنے کا اُلٹا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ: فتح القناة، فجرها ليجرى فيها الماء۔ یعنی پانی بہنے کے لیے نالی نکالنا۔ حدیبیہ کے موقع پر وہ کون سی بات ہوئی جس کو یہاں فتح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ روایات میں آتا ہے کہ اس سفر میں شریک ہونے والے جب حدیبیہ سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں نے اُن سے کہا: ما هذا بفتح (یہ تو کوئی فتح نہیں) سورہ الفتح اتری تو حضرت عمر نے رسول اللہ سے کہا کہ: أو فتح هو یا رسول اللہ (اے خدا کے رسول، کیا وہ کوئی فتح ہے) القرطبی، جلد 16، صفحہ 261۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کو بظاہر کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔ پھر وہ کیا چیز تھی جس کو قرآن میں فتح کہا گیا۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فتح سے مراد سیاسی یا حربی فتح نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ہے— مواقعِ کار یا مواقعِ دعوت کا کھل جانا۔ مشہور تابعی الزُّہری نے کہا ہے: فلما وقع الصلح مشى الناس بعضهم في بعض، وعلموا وسمعوا عن الله، فما أراد أحد الإسلام إلا تمكن فيه (القرطبی)۔
اصل یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان حالت جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس لیے باہمی انٹریکشن ختم ہوگیا تھا۔ اور انٹریکشن کا خاتمہ، دعوتی عمل کا خاتمہ ہے۔ معاہدۂ حدیبیہ میں یہ دفعہ شامل کی گئی کہ اب سے دس سال تک مسلمانوں اور اُن کے حریفوں کے درمیان جنگ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues