پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷
نہیں ہوگی۔ اس طرح معاہدۂ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلا انٹریکشن جاری ہوگیا۔ اور نارمل حالات میں کھلے انٹریکشن کے نتیجے ہی کا نام اسلام کی دعوتی فتح ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی مفروضہ دشمن اُن کو نقصان پہنچارہا ہے۔ اس قسم کا خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں کہ کوئی دشمن کسی کو نقصان پہنچا سکے۔ قرآن میں بار بار یہ بات مختلف انداز میں کہی گئی ہے کہ انسان کی کامیابی کے اسباب اُس کے داخل میں ہوتے ہیں، نہ کہ اُس کے خارج میں (الشوریٰ: 30)
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فتحِ سیاسی کو جانتے ہیں، لیکن وہ فتحِ مواقع کو نہیں جانتے۔ حالاں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کام کے مواقع کا کھلنا سب سے بڑی فتح ہے، بلکہ یہی اصل فتح ہے۔
یہ حقیقت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی سے پوری طرح واضح ہے۔ میں نے اپنی کتابوں میں اِس کی بہت سی مثالیں دی ہیں۔ لیکن مسلمان پیغمبرِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ پر اسرار فضیلت اور پر اسرار کمالات کی اصطلاحوں میں کرتے ہیں، اس لیے وہ آپ کی زندگی سے مذکورہ قسم کا سبق نہیں لے پاتے۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے پیغمبرانہ بصیرت کو کھودیا ہے۔ پیغمبر کے لیے اُن کے پاس صرف لفظی نعت خوانی ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ نئی سوچ ہمیشہ اعترافِ خطا سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ ماضی میں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو بعد کے زمانے میں بھی وہ اُسی غلطی میں پڑا رہے گا۔ غلطی کا اعتراف کسی نئی اصلاح کا آغاز ہے، غلطی کا اعتراف نہیں تو اصلاح کا آغاز بھی نہیں۔
نئی دہلی، 31 مارچ 2007 دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues