پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸
سوال اور جواب سوال دسمبر 2006 کا الرساله راقم نے پورا پڑھا۔ اس میں ایک جگہ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا، اور وہ تھا— قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ قرآن کی حفاظت جب تک سیاسی اقتدار پر منحصر تھی اس وقت تک مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل رہا اور جب اس حفاظت کی ذمے داری پرنٹنگ پریس نے لے لی تو اب سیاسی اقتدار نے اپنی اہمیت کھو دی، چناں چہ خدا نے اس سے اپنی مدد واپس لے لی۔ یہی اصل سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنی قدیم شکل میں باقی نہ رہا‘‘۔ (الرسالہ، دسمبر 2006، صفحہ 5) یہ بات راقم کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اس سے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں اقتدار کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے تو یہ محض آپ کا اپنا استنباط ہے جس کی آپ نے کوئی نقلی دلیل نہیں دی۔ جو عقلی دلیل آپ دے رہے ہیں تاریخ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اقتدارِ اسلامی کے مقاصد قرآن صراحت سے یہ بیان کرتا ہے:
الّذين إن مکناہم في الأرض أقاموا الصّلاة وأتوا الزّكوة وأمروا بالمعروف ونهوا عن المنكر ولله عاقبة الأمور (اللہ کے دین کے مددگار) وہ لوگ ہیں جنھیں ہم اگر زمین میں اقتدار دیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے، برائی سے روکیں گے۔ اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھوں میں ہے) الحج: 14۔
یہ آیت اس سلسلے میں نص ہے کہ حقیقی اسلامی اقتدار کے فرائضِ منصبی کیا کیا ہیں۔ ان فرائضِ منصبی کی ادائیگی واقامت کے طریقے زمانے کے لحاظ سے الگ الگ ہو سکتے ہیں۔
اس آیت میں یا اجتماعی احکام سے متعلق احادیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قرآن کی حفاظت بھی اسلامی اقتدار کے مقاصد میں شامل ہے یا وہی اس کا اصل مقصد ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues