Al-Risala · June 2007 · page 29

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قرآن کی ترتیب و تدوین کا بنیادی کام عہد نبوی میں مکمل ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر کے دور سے عہد عثمان رضی اللہ عنہ تک اس کا اتمام ہوا۔ اس کی کاپیاں تیار کر کے پوری مملکت میں پھیلادی گئیں ۔ اعراب کا مسئلہ حجاج بن یوسف (عہد نبی امیہ کے آغاز میں) مکمل ہو گیا ۔ یہ ظاہری پہلو سے قرآن کی حفاظت تھی۔

معنوی طور پر عہد نبوی سے ہی اُس کے حفظ کا محیر العقول انتظام کیا گیا جو آج تک چلا آتا ہے۔ جو عربوں کے حافظے کی مخصوص صلاحیت کے پیش نظر آج کے کمپیوٹر کی طرح کا نظم تھا۔ اس کے بعد قرآن کی جو بھی خدمت ہوتی ہے، حفاظت واشاعت سے لے کر اس کی تعبیر و تشریح اور اس کے علوم کی ترتیب و تدوین سب کچھ انفرادی طور پر علماء ہی کرتے رہے۔ اس کے لیے انھوں نے استنساخ (ایک نسخے کی نقل تیار کرنا) اور ورّاقی وکتابت جیسے علوم باقاعدہ develope کیے۔ اس پورے عمل میں تاریخ کسی اسلامی حکومت کا باضابطہ شریک ہونا (involvement) ثابت نہیں کرتی ۔ البتہ بعض حکمرانوں کے بارے میں یہ ضرور ملتا ہے کہ وہ قرآن کی کتابت کرتے تھے اور اسے اجر وثواب کا باعث خیال کرتے تھے۔

اس لحاظ سے یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ۔ مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا اور وہ تھا قرآن کی حفاظت ۔ بقیہ چیزیں جو اس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں ۔ مدون اسلامی تاریخ ہمارے سامنے اس کا بالکل برعکس پیش کرتی ہے۔ یعنی یہ کہ’’ اسلامی اقتدار سے بہت سے مقاصد حاصل ہوئے ان میں ضمنی طور پر قرآن کی حفاظت بھی تھی‘‘۔

آپ کی پوری تحریر کا خلاصہ ایک سطر میں یوں کیا جا سکتا ہے کہ’’اسلام میں سیاسی اقتدار کی کوئی اہمیت ہی نہیں‘‘، اگر یہ خلاصہ درست ہے تو یہ ایک ایسا استنباط ہے جو محتاج دلیل ہے۔ آپ یہ کہیں کہ دور جدید کے بعض مسلمان علماء نے سیاست واقتدار کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی اور وہ دین کی سیاسی تعبیر کر بیٹھے تو یہ بات بالکل درست ہے لیکن اس کی تردید میں سیاسی اقتدار کی اہمیت ہی ختم کر دینا تو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page