پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
ایک دوسری انتہا ہے۔ امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اس کنفیوژن کو دور کریں گے۔ (ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی، نئی دہلی)
جواب
ماہ نامہ الرسالہ دسمبر 2006 میں جو بات میں نے لکھی تھی، اُس کا مطلب مختصر طور پر یہ تھا کہ جب تک قرآن دورِ طباعت تک نہیں پہنچا تھا، اس کی حفاظت کے لیے اقتدار ایک لازمی ضرورت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِسی زمانی مصلحت کے اعتبار سے حدیث میں آیا ہے کہ: القرآن والسلطان توأمان ۔ یعنی قرآن اور اقتدار دونوں تو اَم (twin) بھائی ہیں۔
لیکن جب طباعت کا زمانہ آگیا اور قرآن کی تاریخ اُس دور میں پہنچ گئی، جب کہ اٌس کی حفاظت کے لیے اقتدار کی حیثیت لازمی شرط کی نہ رہی، اب خود غیر سیاسی تدبیر ہی قرآن کی حفاظت کی کامل ضمانت بن گئی۔ اِس لیے اب اقتدار کا معاملہ براہ راست خدا کا معاملہ نہ رہا، بلکہ وہ مسلمانوں کا اپنا معاملہ بن گیا۔
اس دوسرے دور میں سیاسی اقتدار کا حصول براہِ راست طور پر مقصود نہ رہا، بلکہ اب یہ ہو گیا کہ اگر مسلمانوں کو حالتِ تمکین حاصل ہو جائے، اگر مسلم معاشرہ اس درجے تک پہنچ جائے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ بھی اٌس کے دائرہ استطاعت میں شامل ہو جائے تو اٌس وقت سیاسی اقتدار مطلوب بن جائے گا، لیکن اس کی یہ مطلوبیت، حفاظتِ قرآن کی نسبت سے نہ ہوگی، بلکہ مسلمانوں کی اپنی معاشرتی ذمے داری کی نسبت سے ہوگی۔
آپ نے قرآن کی جو آیت (الحج: 41) پیش کی ہے، وہ مسلمانوں کا یہ فریضہ نہیں بتاتی کہ تم اسلامی حکومت قائم کرو، بلکہ وہ صرف یہ بتاتی ہے کہ اگر حالات کے ارتقا کے تحت، تم کو اقتدار حاصل ہو جائے تو اٌس وقت تمھاری سیاسی ذمے داری کیا ہوگی۔
سوال
مولا نا صاحب میری ایک مخصوص سوچ ہے کہ دنیا میں جس نے بھی اسلام کے لیے کام کیے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues