پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱
اس کی نہ ہی تمام باتیں اس لائق ہیں کہ ان کو اپنایا جائے اور نہ ہی سب باتیں ایسی ہیں جن کو رد کیا جائے۔ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ کسی کی بات سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ ہمارا حق ہے۔ (سہیل بشیر کار، کشمیر)
جواب
1- "کسی کی ہر بات درست نہیں ہو سکتی" یہ کوئی مطلق بات نہیں۔ اس طرح کے مفروضے کی بنیاد پر کسی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اُس وقت تک درست مانیں جب تک اس کی کسی بات کو آپ قرآن اور سنت کی واضح دلیل سے رد نہ کر سکیں۔
اسلام میں اس قسم کے مفروضے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس قسم کے بے دلیل مفروضے کا نقصان یہ ہے کہ کہنے والے کے اندر یقین پیدا نہیں ہوتا۔ جب کہ یقین ہر ایک کی ایک ایمانی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: خیر ما وقر في القلوب اليقين، والإرتياب من الكفر (البيهقی، وابن عساكر)
اس مزاج کے لوگ ہمیشہ انفرادی زندگی گزاریں گے، وہ کبھی کسی اجتماعی مشن کا حصہ نہ بن سکیں گے۔ وہ یقین کے ساتھ کسی سے جڑ نہیں سکیں گے۔ وہ شک کے ساتھ جئیں گے اور شک کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اس طرح کے لوگوں کو اپنے اس مزاج کی دو بھاری قیمت دینی پڑتی ہے— ایک، حق کے معاملے میں بے یقینی اور دوسرے، اجتماعی زندگی سے محرومی۔
اس طرح کی سوچ کے لوگ اکثر امام مالک کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں: کل یوخذ منہ و یرد۔ مگر مذکورہ قسم کے موقف کی تائید کے لیے یہ حوالہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن اور حدیث کے حوالے سے ایک بات پیش کرے تو اُس کو لینا آپ کے اوپر فرض ہو جائے گا۔ یہ فرضیت صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ آپ خود قرآن اور حدیث کے دلائل سے اُس کا نادرست ہونا ثابت کر دیں۔ اگر آپ کے پاس جوابی دلیل موجود نہیں ہے تو امام مالک کے قول کا حوالہ دے کر مذکورہ قسم کی بات کرنا، میرے نزدیک ایک گناہ کا فعل ہے، وہ کوئی صحیح علمی موقف نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues